Al-Risala · March 2011 · page 2

اللہ سے محبت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲

اللہ سے محبت

قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والے، اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں (165 :2)۔ اس آیت میں محبت الہی سے کیا مراد ہے۔ صوفیا اس کو عشق الہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ علماء کا عام طور پر ماننا یہ ہے کہ محبت الہی سے مراد اطاعت الہی ہے۔ مگر ان دونوں تفسیروں میں محبت کا اصل مفہوم نہیں آتا۔ محبت دراصل کسی کے ساتھ نہایت گہرے قلبی میلان کا نام ہے، یعنی: Strong affection, deep emotional attachment. اللہ کے ساتھ یہ گہرا قلبی میلان اُس انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے جو اللہ کے اعلیٰ انعامات کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا جب کہ اس کا کوئی وجود نہ تھا (9: اللہ نے انسان کو بہترین صورت عطا فرمائی (64: 40)، اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا (خلق الله آدم على صورته)۔ انسان کو اللہ نے رہنے کے لیے زمین دی، جہاں استثنائی طور پر اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں، انسان کے لیے اللہ نے جنت کی صورت میں ایک معیاری دنیا (perfect world) بنائی، انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک معیاری جنت بنائی، جہاں اس کو پورا فل فلمینٹ حاصل ہو۔ اللہ نے انسان کو عقل دی جو حدیث کے مطابق، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اکرم واشرف چیز ہے (مــا خلق الله خلقاً أكرم عليه من العقل)، اللہ نے انسانوں کے اندر استثنائی طور پر مودت پیدا کی جس کی وجہ سے خاندان اور سماج جیسی چیز وجود میں آتی ہے (21 :30)۔ ان سب پر مزید یہ کہ اللہ نے انسان کو استثنائی طور پر شعور دیا جس سے وہ انعامات الہی کو جانے۔ اللہ نے استثنائی طور پر انسان کو احساس لذت (sense of pleasure) دیا، جس سے وہ انعامات سے پوری طرح محظوظ ہو سکے۔ اس طرح کے بے شمار انعامات ہیں جو اللہ نے انسان کو عطا کیے ہیں۔ جب آدمی ان بے شمار انعامات الہی کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں حب شدید (165 :2) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page