جنت کا استحقاق
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳
جنت کا استحقاق
قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے : لئن شکرتم لأزيدنكم (14:7) یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کرو گے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دئے جائیں گے۔ حقیقی شکر سب سے بڑا عمل ہے۔ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔ جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکرگزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف اعلیٰ روحیں داخل کی جائیں گی، اور اعلیٰ روح وہ ہے جو حمد اور شکر کی کیفیات سے بنی ہو۔ اس اعلیٰ روح کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت والے جب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے تو وہ کہیں گے : الحمد لله الذي أذهب عنا الحزن (34 یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے حزن کو ہم سے دور کر دیا۔
دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کا ایک لمحہ حزن یا زمانۂ حزن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اس حزن (sorrow) سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ جو آدمی اپنے اس زمانۂ حزن کو اور پھر زمانۂ فرحت کو دریافت کرے اور پھر وہ یہ کہہ اٹھے کہ خدایا، تو نے دنیا میں میرے حزن کو دور کر دیا ، اسی طرح تو آخرت میں میرے حزن کو دور کر دے۔ جو آدمی سچے احساس کے ساتھ یہ بات کہے تو یہ بات اس کے لیے ان شاء اللہ جنت میں داخلے کا ٹکٹ بن جائے گی۔ دنیا کی نعمتوں کا اعتراف اس کو آخرت کی نعمتوں کا مستحق بنا دے گا۔
اس قسم کا قول کوئی سادہ قول نہیں۔ اس کے لیے گہری شعوری بیداری درکار ہے۔ جو آدمی اپنے اندر اس قسم کی شعوری بیداری پیدا کرے، اُسی کے دل سے اس قسم کے کلمات نکلتے ہیں جو اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق بن جائیں۔ گہری شعوری بیداری کے بغیر کسی شخص کو یہ توفیق ملنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues