Al-Risala · March 2011 · page 9

مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۹

احتجاج نہیں کیا، وغیرہ حقیقت یہ ہے کہ احتجاج (protest) اپنے آپ میں سر تاسر ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ احتجاج کو خوب صورت نام دے کر اس کو اسلامی نہیں بنایا جا سکتا۔ مثلاً پر امن احتجاج، دینی احتجاج، اپنے حق کے لیے احتجاج، حکمراں کے ظلم کے خلاف احتجاج، پیغمبر کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج، عبادت خانے کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج، اسلام کی توہین کے خلاف احتجاج، وغیرہ۔ اس مضاہاۃ یا مشابہت غیر کی نفسیات کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: تشابہت قلوبہم (118: 2) یعنی سوچ کی سطح پر مشابہت۔ دورِ زوال میں حامل کتاب امتوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُن کے اندر دین خداوندی پر مبنی سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ خدائی طرزِ فکران کے ذہن میں زندہ تصور کے طور پر باقی رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آس پاس کے غیر دینی افکار سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ خدائی ماڈل عملاً اُن کے لیے ایک غیر معلوم چیز بن جاتا ہے۔ وہ غیر خدائی ماڈل کو دینی ٹائٹل دے کر اختیار کر لیتے ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مضاہاۃ کی دونوں قسمیں مکمل طور پر آچکی ہیں، مذہبی مضاہاۃ بھی اور سیاسی مضاہاۃ بھی۔ مسلمانوں کے اندر طرح طرح کی جومبتدعانہ رسمیں ہیں، وہ سب اس مذہبی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً جنم اشٹمی کی جگہ میلاد النبی، ہنومان چالیسہ کی جگہ قرآن خوانی، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ملی سیاست کے نام سے جوسرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں، وہ سب کی سب بلا استثنا سیاسی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ ملی سیاست یا اسلامی سیاست کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانے پر غیر اسلام کو اسلامائز کر رکھا ہے۔ یہ نام نہاد اسلامی سیاست اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہودی سیاست ہے۔ اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہ دنیا میں ملنے والا ہے اور نہ آخرت میں۔ مسلمانوں کے کرنے کا کام دعوت ہے، نہ کہ سیاست۔ مسلمان جب تک مضاہاۃکے یہودی طریقے کو چھوڑ کر دعوت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اُس وقت تک وہ خدا کی رحمت سے محروم رہیں گے، دعوت الی اللہ کے بغیر ان کو ہرگز خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page