Al-Risala · March 2011 · page 8

مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۸

مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

یہود و نصاریٰ اپنے دور زوال میں جن برائیوں میں مبتلا ہوئے، اُن میں سے ایک برائی وہ ہے جس کو قرآن میں مُضاہاۃ (9: 30) کہا گیا ہے۔ مضاہاۃ کے لفظی معنیٰ مشابہت (imitation) کے ہیں، یعنی غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اختیار کر لینا ۔ مثلاً غیر دینی لوگوں کے یہاں خدا کی پرستش کے بجائے بت کی پرستش کا رواج ہے، اس سے متاثر ہو کر اس روش کو اختیار کر لینا، مگر اس کو بزرگوں کی پیروی کا نام دے دینا، وغیرہ۔

مضاہاۃ کی ایک صورت وہ ہے جس کو مذہبی مضاہاۃ (religious imitation) کہا جا سکتا ہے۔ بدعت کے تمام طریقے اسی مذہبی مضاہاۃ کی فہرست میں شامل ہیں۔ بدعت، مجرد بدعت کا نام نہیں ہے۔ بدعت دراصل یہ ہے کہ غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اُس کو اختیار کر لیا جائے ۔ موجودہ زمانے میں مضاہاۃ کی ایک اور قسم بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہوئی ہے۔ اس کو سیاسی مضاہاۃ (political imitation) کہا جا سکتا ہے، یعنی سیکولر پارٹیوں اور سیکولر تحریکوں کے طریقے کو اسلامی نام دے کر اس کو اسلامی عمل کے طور پر اختیار کر لینا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے احتجاج (protest) کے طریقے کو بہت بڑے پیمانے پر اختیار کر لیا ہے۔ یہ بلاشبہ سیاسی بدعت یا سیاسی مضاہاۃ ہے۔ مثلاً اسلامی مسائل کے نام پر احتجاجی بیانات، احتجاجی مظاہرے، احتجاجی کا نفرنسیں، احتجاجی ریلی، احتجاجی دھرنا، احتجاجی نعرے، وغیرہ۔

احتجاج (protest) بلاشبہ سیکولرزم کا طریقہ ہے، وہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مقدس کعبہ کو عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا، مگر آپ نے اُس پر احتجاج نہیں کیا۔ اسی طرح تیرہ سالہ مکی دور میں رسول اور اصحاب رسول پر ہر قسم کے مظالم کئے گئے، لیکن آپ نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ دار الندوہ میں آپ کے خلاف بائیکاٹ کی تجویز پاس کی گئی، مگر آپ نے اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کیا گیا، لیکن آپ نے اس پر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page