Al-Risala · March 2011 · page 14

احیاء اسلام

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴

احیاء اسلام

موجودہ زمانے میں احیاء اسلام سے کیا مراد ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو قدیم روایتی زمین کے مقابلے میں جدید سائنسی زمین پر کھڑا کیا جائے، تاکہ اسلام آج کے ذہن کے لیے قابلِ فہم ہو سکے، وہ لوگوں کو عصرِ حاضر سے ریلیونٹ (relevant) نظر آئے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کے احیاء کے لیے جو کام مطلوب ہے، اُس کام کو بنیادی طور پر حسب ذیل تین عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

1۔ مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality)

2۔ مبنی بر عقل استدلال (reason-based argument)

3۔ مبنی بر امن عمل (peace-based activism)

مبنی بر ذہن روحانیت سے مراد یہ ہے کہ روحانیت یا تزکیہ کو مراقبہ (meditation) کے بجائے فکر و تدبر پر قائم کرنا۔ مراقبہ قلب کو مرکز بنا کر کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، تدبر عقلی غور و فکر کی سطح پر انجام دیا جاتا ہے۔ اس لیے قرآن میں تفکر اور تدبر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ مبنی بر عقل استدلال سے مراد وہی چیز ہے جس کو سائنسی استدلال کہا جاتا ہے، یعنی قیاسات وتمثیلات کے بجائے معلوم حقائق کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر ثابت کرنا۔ یہی موجودہ زمانے میں استدلال کا علمی طور پر مسلّم طریقہ ہے۔ مبنی بر امن عمل کا مطلب ہے تشدد سے مکمل طور پر بچتے ہوئے صرف پر امن ذرائع (peaceful means) سے اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کرنا۔ یہی موجودہ زمانے میں مقصد کے حصول کا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلح طریقہ تخریب کے لیے کارگر ہو سکتا ہے، مگر تعمیر کے لیے وہ کارگر نہیں۔ اس معاملے کی تفصیل کے لیے ہمارے یہاں کی مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔ مثلاً انسان کی منزل، مذہب اور سائنس، امن عالم اور پیغمبر امن (Prophet of Peace)، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page