ابن تیمیہ کا موقف
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
ابن تیمیہ کا موقف
موجودہ زمانے کے مسلمان مختلف ملکوں میں مسلح تحریکیں چلا رہے ہیں۔ یہ تمام تحریکیں غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ ایسے افراد کو غیر ریاستی ایکٹر (non-state actors) کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ اپنی مسلح تحریکوں کے جواز کے لیے ابن تیمیہ کے فتوے کا حوالہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ کے زمانے میں تاتاری جارحیت کا مسئلہ پیدا ہوا تو ابن تیمیہ نے فتویٰ دیا کہ مسلمان اُن کے خلاف لڑیں ۔ اسی طرح ہم اپنے زمانے کی جارح طاقتوں سے لڑ رہے ہیں ۔ یہ حوالہ غلط ہے۔ یہ درست ہے کہ ابن تیمیہ (وفات: 728 ھ / 1328ء) کے زمانے میں تاتاری حملے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ تاتاریوں نے بغداد کے آخری خلیفہ المستعصم کو 1258ء میں ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد مسلح تاتاری مسلم شہروں میں پھیل گئے اور بڑے پیمانے پر وہاں قتل و غارت گری کرنے لگے ۔ یہ ابن تیمیہ کا زمانہ تھا۔ انھوں نے مصر و شام کے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ تاتاری جارحیت کا مقابلہ کرو۔ مگر ابن تیمیہ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ وہ غیر ریاستی عوام کو تاتاریوں سے لڑنے کا فتویٰ دیں۔ اُس وقت اب بھی شام میں مسلم حکمراں ابن النحاس اور مصر کا حکمراں سلطان محمد بن قلاوون موجود تھا۔ ابن تیمیہ دونوں مسلم حکمرانوں سے ملے اور دونوں کو تاتاریوں کی جارحیت کے خلاف جنگ کے لیے ابھارا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے مصر و شام کی مسجدوں میں تقریریں کر کے مسلم عوام سے کہا تم لوگ اس دفاعی مہم میں ان مسلم حکمرانوں کا ساتھ دو (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، البدایہ والنھاية لابن كثير، جلد 14)۔ حقیقت یہ ہے کہ جارح کے خلاف مسلح دفاع صرف ریاست کا کام ہے، وہ عوام کا کام نہیں (الرحيل للإمام) ۔ ابن تیمیہ نے اُس وقت کے سلطان سے تاتاری جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے کہا تھا ۔ انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ عوام بذات خود لڑنا شروع کردیں، جیسا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کر رہے ہیں۔ اسلام میں غیر ریاستی تنظیموں کو صرف پر امن جدوجہد کا حق ہے، مسلح جدوجہد کا حق ہرگز اُن کو حاصل نہیں ۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی ابن تیمیہ کا موقف بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues