Al-Risala · March 2011 · page 19

غیرِ خدا میں جینا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹

غیرِ خدا میں جینا

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ خدا میں جینے والے نہیں بنے، وہ غیر خدا میں جی رہے ہیں۔ یہی واحد وجہ ہے جس نے تمام مسلمانوں کو منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں منفی سوچ اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی عورت یا مرد کا استثنا نظر آئے گا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا لکھنا اور بولنا، سب کا سب ان کی منفی سوچ کا اظہار ہے۔

منفی سوچ کا سبب کیا ہے۔ منفی سوچ در اصل شکایت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی کے خلاف شکایت کا جذبہ لئے ہوئے ہے۔ فلاں نے زمین پر قبضہ کر لیا، فلاں نے اپنی فوجیں مسلم ملک میں اتار دیں، فلاں نے اسلام کی بے حرمتی کردی، فلاں نے ہم کو انصاف نہیں دیا، فلاں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، وغیرہ۔ ہر مسلمان اس قسم کی شکایتوں میں جیتا ہے۔ انھیں شکایتوں نے ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مگر منفی سوچ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ منفی سوچ کا مطلب دراصل یہ ہے کہ انسان نے کسی اور چیز کو وہ اہمیت دے دی جو اہمیت اُسے خدا کو دینا چاہیے: Making one's concern something else other than God. خدا کو پانا سب سے بڑی چیز کو پانا ہے۔ جس آدمی کو خدا کی دریافت (discovery) ہو جائے، اس کی سوچ اتنی زیادہ بلند ہو جاتی ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہے۔ کسی چیز کا کھونا یا پانا دونوں اس کی نظر میں یکساں ہو جاتے ہیں۔ وہ اس نفسیات میں جینے لگتا ہے کہ تم جو چیز چاہو مجھ سے چھین لو، لیکن تم خدا کو مجھ سے نہیں چھین سکتے:

You can take away from me whatever you want to, but you cannot take God away from me!

یہ نفسیات ایک مومن کو انتہائی حد تک مثبت سوچ (positive thnking) والا انسان بنا دیتی ہے۔ کسی کے خلاف نفرت کا ایک ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page