رزرویشن کے بغیر
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰
رزرویشن کے بغیر
یوپی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ امتحانات (مارچ 2010) میں 10 طلبا نے ٹاپ کیا ہے۔ ٹاپ کرنے والے ان طلبا میں دو مسلمان طالب علم ہیں۔ اُن کے نام یہ ہیں۔ انشا سیفی، محمد حسن سلمانی۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 28 مئی 2010، صفحہ 8)
ہمارے رہنما یہ کہتے تھے مسلمانوں کے لیے تعلیم گاہوں میں رزرویشن (reservation) ضروری ہے۔ رزرویشن کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لیکن تجربہ بتا رہے تھے کہ ترقی کے لیے رزرویشن سے زیادہ یقینی ذریعہ محنت ہے۔ 1947 کے بعد تمام مسلم رہنما، مسلم نوجوانوں کو یہ بتا رہا ہے کہ انڈیا اُن کے لیے ایک پرابلم کنٹری (problem country) ہے۔ تقریباً 50 سال تک مسلمان اس منفی ذہن میں مبتلا رہے۔ اب مسلمانوں نے حالات کے تحت یہ دریافت کر لیا ہے کہ انڈیا میں اُن کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ اس دریافت نے اب مسلمانوں کے اندر نیا جوش پیدا کر دیا ہے۔ وہ کوشش کر کے ہر میدان میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی کرنے کی خواہش ہر انسان کے اندر فطری طور پر موجود رہتی ہے۔ اگر انسان کو غلط رہنمائی کر کے مایوسی میں مبتلا نہ کیا جائے، تو وہ خود اپنے فطری جذبے کے تحت کوشش کے راستے پر چل پڑے گا اور محنت کر کے وہ کامیابی تک پہنچ جائے گا۔
سب سے بڑی رہنمائی یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنے ماحول کے بارے میں مایوسی کا جذبہ نہ پیدا کیا جائے۔ اس قسم کی قیادت جھوٹی قیادت ہے۔ سچی قیادت وہ ہے جو انسان کے اندر امید پیدا کرے، جو حوصلہ بڑھانے والی باتیں کرے، جو مسائل (problems) کے بجائے مواقع (opportunities) کی نشان دہی کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس صرف مایوسی پیدا کرنے والی خبریں ہوں، اُس پر فرض ہے کہ وہ چپ رہے۔ خدا کی اس دنیا میں بولنے کا حق صرف اُس آدمی کو ہے جو لوگوں کو امید کی روشنی دکھائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues