اتباعِ یہود کا کیس
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵
سیاسی اقتدار قائم ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ ہر جگہ وہ ایک ہی قسم کی بولی بول رہے ہیں، اور وہ یہ کہ ہم دشمنوں کے محاصرہ (seige) میں ہیں، ہمارے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، عالمی میڈیا ہماری تصویر بگاڑنے میں مصروف ہے، ہمارے ساتھ ہر جگہ امتیاز کا سلوک کیا جاتا ہے، ہم کو دوسرے درجے کا شہری (second class citizen) بنا دیا گیا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتیں بلاشبہ سنتِ یہود کی پیروی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے خدا کے دین کو دین مہجور (30:25) بنا دیا ہے، انھوں نے دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ترک کر دیا ہے، انھوں نے اسلام کی اسپرٹ کو بھلا دیا ہے، وہ اسلام کو صرف بطور فارم لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنی قومی سرگرمیوں کو اسلام کا نام دے رکھا ہے، وہ انسانوں سے نفرت کرتے ہیں، جب کہ اُنھیں انسانوں کا خیر خواہ بننا چاہیے تھا، آج کے مسلمانوں کا کنسرن (concern) خدا نہیں ہے، بلکہ وہی مادی مفادات ہیں جو دوسری قوموں کا کنسرن بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی سوچ تمام تر دنیأ رخی سوچ بنی ہوئی ہے، جب کہ اس کو خدا رخی سوچ بننا چاہیے، اسلام اب اُن کے لیے فخر (pride) کا موضوع ہے، نہ کہ اتباع کا موضوع، مسلم معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عملاً ختم ہو گیا ہے، مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے عملاً اپنی قوم کے ترجمان ہیں، نہ کہ خدا کے دین کے ترجمان، وغیرہ۔
یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے زوال کی کھلی علامت ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب اُن کے اسی زوال کی بنا پر خدا کی تنبیہات ہیں، نہ کہ انسانوں کا ظلم۔ مگر مسلمان ان واقعات کو انسانوں کی طرف منسوب کر کے ان کے خلاف چیخ و پکار میں مشغول ہیں۔ مسلمانوں پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اس منفی روش کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ دوسروں سے نفرت کو چھوڑ دیں اور خود اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کریں، یہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ اس کے سوا دوسری ہر چیز صرف اُن کی تباہی میں اضافہ کرے گی، وہ ان کی فلاح کا سبب بننے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues