Al-Risala · March 2011 · page 24

اتباعِ یہود کا کیس

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

وہ خدا کے غضب میں مزید اضافہ کریں۔ اس کے بغیر ان کے حالات ہرگز بدلنے والے نہیں۔ خدائی انتباہ کے معاملے کو مفروضہ دشمنوں کی طرف منسوب کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک واقعہ کو غلط طور پر کسی اور سے منسوب کرنا ہے۔ اس قسم کا مزاج کسی فرد یا قوم کو بہت بڑا فکری نقصان پہنچاتا ہے، اور وہ ہے معاملات کے صحیح تجزیہ (analysis) سے محرومی۔ کامیاب منصوبہ بندی ہمیشہ صحیح تجزیہ پر مبنی ہوتی ہے۔ جب صحیح تجزیہ نہ ہو تو کامیاب منصوبہ بندی بھی عملاً ناممکن ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 1948 میں بال فور کمیشن (Balfour Commission) کے تحت، فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔ فلسطین کا تقریباً نصف حصہ یہود کو ملا، اور تقریباً نصف حصہ عرب مسلمانوں کو دیا گیا۔ بظاہر یہ واقعہ انسان کے ذریعہ پیش آیا، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اُسی قسم کا ایک خدائی معاملہ تھا جو اس سے پہلے اسی ارضِ فلسطین میں یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ دونوں کے درمیان ظاہری صورت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ماضی میں یہود کے ساتھ جب ایسا واقعہ پیش آیا تو انھوں نے اس کو خدائی واقعہ کے بجائے انسانی واقعہ سمجھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ متعلق انسانوں کو اپنا دشمن قرار دے دیا، وہ اُن کے خلاف منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں میں مبتلا ہو گئے۔ جو واقعہ اُن سے خدا کی طرف رجوع کا تقاضا کر رہا تھا، وہ اُن کے غیر حقیقی رسپانس کے نتیجے میں اُن کے لیے خدا سے مزید دوری کا سبب بن گیا۔

ٹھیک یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ 1948 کے بعد مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں نے وہی غیر حقیقی رسپانس دیا جو اس سے پہلے یہود نے دیا تھا۔ ذاتی محاسبہ کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے یہود اور یہود کے مفروضہ حلیفوں کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اس کا نتیجہ فطری طور پر برعکس صورت میں نکلا۔ 1948 میں جو کچھ اُنھیں ملا تھا، 60 برس سے زیادہ مدت کی غیر معمولی قربانیوں کے باوجود انھوں نے اس کو بھی کھو دیا۔ آج تحریکِ فلسطین اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر پارہی ہے جہاں اس کے پاس مایوسی اور محرومی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ 57 ملکوں میں مسلمانوں کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page