Al-Risala · March 2011 · page 29

سزا کا تعلق خدا سے

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

سزا کا تعلق خدا سے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں داعی الی اللہ (46:33) کہا گیا ہے۔ اس دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے آپ کو قرآن میں جو ہدایت دی گئیں، اُن میں سے ایک ہدایت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشركين- إنا كفيناك المستهزئين (95-94: 15) یعنی جس چیز کا تم کو حکم ملا ہے، اس کو تم واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کردو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے ان استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔

ان آیات کو اس کے سبب نزول کے اعتبار سے دیکھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کو اپنی ساری توجہ دعوت کے کام میں لگانا چاہیے۔ اس کے بعد اگر ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ کی طرف سے منفی رد عمل سامنے آتا ہے، وہ داعی کا مذاق اُڑاتے ہیں، وہ داعی کا سب وشتم کرتے ہیں، وہ داعی کو لوگوں کی نظر میں گھٹانے کے لیے توہین واستهزا کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو ایسی حالت میں داعی کو چاہیے که وه رد عمل کی نفسیات سے بچتے ہوئے یک طرفہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی دعوت کو مزید مدلل کرنے کی کوشش کرے، حتیٰ کہ وہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے اپنے رب سے دعا کرے ۔ وہ کہے کہ خدایا، تو ان مخالفین کو میرا ساتھی بنادے، تو ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ اس کے بعد جہاں تک استہزا کرنے والوں کے استهزا کا معاملہ ہے، وہ اس کو پوری طرح خدا پر چھوڑ دے۔ داعی کا کام صرف پر امن دعوت ہے، اس کا کام لوگوں کو سزا دینا نہیں (22-21: 88)۔ سب وشتم کی حیثیت دراصل آزادی کے غلط استعمال کی ہے۔ سب وشتم کی حیثیت جرم مستوجب سزا (cognizable offence) کی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاتم کو پر امن نصیحت کی جائے گی، اُس کو مجرم قرار دے کر اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس معاملے میں نصیحت کا تعلق داعی سے ہے اور سزا کا تعلق خدا سے۔ داعی اگر شاتم کو سزا دینے کی کوشش کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہتا ہے، اور ایسا کرنا بلا شبہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page