عفوودرگزر کا حکم
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰
عفوودرگزر کا حکم
قرآن کی سورہ الجاثیہ میں ایک آیت آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: قل للذین آمنوا، یغفروا للذین لا یرجون أیام اللہ، لیجزى قوماً بما كانوا يكسبون (14: 45) یعنی ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ عفوودرگزر کا معاملہ کریں جو ایّامِ اللہ کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے، تا کہ اللہ ایک قوم کو اُس چیز کا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔ قرآن کی اس آیت کی تشریح میں مفسر القرطبی نے لکھا ہے: نزلت الآية بسبب أن رجلاً من قريش شتم عمر بن الخطاب، فهم أن يبطش به (تفسیر القرطبی 16/161) یعنی یہ آیت اس واقعے کے بعد اتری کہ قریش کے ایک آدمی نے عمر بن الخطاب کا سب وشتم کیا۔ عمر نے چاہا کہ وہ اس کو پکڑیں اور ماریں۔ اس موقع پر قرآن میں یہ ہدایت اتری۔
قرآن کی اس آیت سے اور اس قسم کی دوسری آیتوں سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ سب وشتم کا معاملہ قانونی سزا (legal punishment) کا معاملہ نہیں ہے۔ کوئی شخص نعوذ باللہ، خدا کا استہزاء کرے، وہ صحابہ کا استہزاء کرے، وہ قرآن کا استہزاء کرے، تو اس بنیاد پر اُس کو قانونی مجرم قرار دے کر قانونی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس معاملے میں سزا کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ اللہ اپنے علم کے مطابق، ایسے لوگوں کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ سزا دے گا۔ ایسے معاملے میں کسی شخص کو سزا دینا اسلام کی حمایت کے نام پر اسلام کے ساتھ بدترین عداوت کے ہم معنی ہے۔
سب وشتم کے معاملے میں مسلمانوں کو جو کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ ایسے شخص کے لیے دعا کریں، وہ اُس سے مل کر اُس کو نصیحت کریں، وہ اس کو دلائل کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کریں، وہ اس کی اصلاح کی پر امن جدوجہد کریں، وہ اس کو جسمانی سزا دینے کا کام اپنے ذمے نہ لیں۔ مومن کی حیثیت اِس دنیا میں داعی کی ہے، نہ کہ داروغہ (22-21: 88) کی۔
شتم اور ارتداد
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں شتم رسول کی سزا قتل ہے۔ اسی طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues