Al-Risala · January 2011 · page 12

سچائی کی تلاش

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲

سچائی کی تلاش

ایک انگریز حقیقت کی تلاش میں تھا۔ اس سلسلے میں اُس نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ ایک کتاب میں اُس نے پڑھا کہ سب سے بڑی عبادت زندہ لوگوں کی خدمت ہے۔ پھر اس کو معلوم ہوا کہ خدمت کے سب سے زیادہ مستحق حیوانات ہیں۔

چناں چہ اس انگریز نے حیوانات کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آخر کار وہ ہندوستان آگیا۔ اب یہ انگریز اور اس کی بیوی دونوں نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ ان کے گھر کے وسیع احاطے میں دس گدھے پلے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ان گدھوں کی خدمت کرتے ہیں۔

ہمارے ایک ساتھی تلاش کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ وہ بیٹھا ہوا ایک گدھے کی ڈریسنگ (dressing) کر رہا ہے۔ ہمارے ساتھی جرات کر کے اس کے پاس گئے۔ ہمارے ساتھی ان کے پاس قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی تھی۔

مذکورہ آدمی سے ہمارے ساتھی نے کہا، کیا میں یہ قرآن آپ کو دے سکتا ہوں۔ وہ انگریز کھڑا ہوگیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے قرآن کی کاپی اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ ــ میں ہمیشہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ سچائی کا دوسرا نقطہ نظر کیا ہے :

I always wanted to know another version of truth. اس قول کو جنرلائز کیا جائے تو اس میں بیشتر انسانوں کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ وہ لوگ جو کسی چیز کو سچائی سمجھ کر اُسے لئے ہوئے ہیں، وہ سب غیر مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس احساس میں رہتے ہیں کہ سچائی شاید کچھ اور ہے، کیوں کہ موجودہ سچائی ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کر رہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر سچائی کی طلب پیشگی طور پر موجود ہے۔ وہ اس طلب کے تحت کسی نہ کسی چیز کو بطور سچائی لے لیتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ بے اطمینانی کی نفسیات میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ حقیقی سچائی شاید کچھ اور ہے جس کو اُسے پانا چاہیے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page