امن کی طاقت زیادہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱
امن کی طاقت زیادہ
2 دسمبر 2009 کی شام کو ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹر جے ایم بٹ (عمر 60 سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ وہ آج کل افغانستان میں پشتو کے علاقے میں رہتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام اور امن کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پشتو اور فارسی زبان اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے وہ کامیابی کے ساتھ وہاں پر امن دعوت کا مشن پھیلا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات کچھ افغانی انتہا پسندوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے افغانی انتہا پسندوں سے کہا کہ آپ لوگ خودکش بم باری کیوں کرتے ہیں۔ افغانی انتہا پسندوں نے کہا کہ ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، اس لیے ہم مجبور ہو کر خودکش بم باری کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس جو ہتھیار ہے، اس کا جواب اُن کے پاس نہیں۔ فارسی زبان میں یہ گفتگو اس طرح تھی: جواب اسلحہ انہا پیش مانیست، جواب اسلحہ شما پیش آنها نیست انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کر رہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنّ اللہ یعطی علی الرّفق، مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، كتاب البر والصلة) یعنی خدا پر امن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔
اس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد 6 ہجری میں آپ نے فریق ثانی سے امن کا معاہدہ کرلیا، جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پیس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتح مبین کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues