Al-Risala · March 2011 · page 32

تحفظ نبوت، تحفظ کار نبوت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲

تحفظ نبوت، تحفظ کار نبوت

موجودہ زمانے میں مسلم تنظیمیں اور مسلم ادارے جگہ جگہ تحفظ ختم نبوت کے نام سے جلسے کر رہے ہیں۔ ان موقعوں مسلمانوں کی بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے، مقررین پر جوش تقریریں کرتے ہیں۔ وہاں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم ہر قیمت پر ختم نبوت کا تحفظ کریں گے۔ مگر اس قسم کے جلسے اور تقریریں سراسر بے معنی ہیں۔ ان کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔

قرآن میں اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ خاتم النبیین کی حفاظت فرمائے گا (5:67)۔ اللہ اپنے آخری کلام قرآن کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا (9:15)۔ اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہوا۔ دنیا میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے بعد خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم پوری طرح محفوظ ہو گئی۔ قرآن پر پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پہنچ کر آخری طور پر محفوظ ہو گیا۔ اب مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کا نہیں ہے، بلکہ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کار نبوت (دعوت الی اللہ) کو ہر زمانے میں مسلسل طور پر جاری رکھا جائے۔

کار نبوت سے مراد وہی کام ہے جس کو قرآن میں تبلیغ ما انزل اللہ (5:67) کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کا مشن دراصل دعوتی مشن تھا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس دعوتی مشن کو ہر قوم میں اور ہر زمانے میں جاری رکھیں ۔ وہ دعوت و تبلیغ کے کام میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم مقامی کریں۔ یہی کرنے کا اصل کام ہے اور یہی امت محمدی کی اصل ذمے داری۔

اصل یہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، لیکن پیغام نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ اب مسلمانوں کی ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ نعت خوانی کریں، یا گستاخ رسول کو قتل کریں، یا تحفظ ختم نبوت کے جلسے کریں۔ یہ سب غیر متعلق کام ہے، اصل کام یہ ہے کہ تمام انسانوں تک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن کو پہنچایا جائے، ہر زمانے کے لوگوں کو اس کے پیغام سے باخبر کیا جائے— تحفظ، خدا کا کام ہے اور دعوت اہل اسلام کا کام۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page