Al-Risala · March 2011 · page 31

شتم اور ارتداد

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱

اسلام میں ارتداد (apostasy) کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اس سزا کو حد (legal punishment) کا درجہ دیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتد کو بطورحد قتل کیا جائے گا (یقتل حدًّا)۔ یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور (1258-750ء) کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں۔ اس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا جائے۔

اسلامی تاریخ کے مکی دور میں جو اہل ایمان ہجرت کر کے حبش (Abyssinia) گئے تھے، اُن میں سے ایک شخص کا نام عبیداللہ بن جحش تھا۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں جا کر عبیداللہ بن جحش عیسائی مذہب سے متاثر ہوئے اور اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ دیا۔ یہ واضح طور پر ارتداد کا ایک واقعہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبیداللہ بن جحش مرتد ہو گئے ہیں، اُن کو بطور قتل کر دو۔ اس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔ اسی طرح مدینہ میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام عبداللہ بن ابی تھا۔ یہ شخص کھلے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شتم کرتا تھا، لیکن رسول اللہ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبداللہ بن ابی نے شتم رسول کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس لیے اس کو بطور قتل کر دو۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں سماجی جرم (social crime) پر سزا ہے، اسلام میں اعتقادی جرم (ideological crime) پر کوئی سزا نہیں۔ شاتم اور مرتد کے لیے تبلیغ و نصیحت ہے، نہ کہ قتل کا حکم۔ الرسالہ کے تمام قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنا ای میل اور ٹیلی فون نمبر روانہ فرمائیں۔ ای میل یا فون نمبر کی تبدیلی کی صورت میں اس کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے مطلوبہ تفصیل ایس ایم ایس کے ذریعہ بھی روانہ کر سکتے ہیں۔ مکمل ایڈریس لکھنے کے بجائے اپنے خریداری نمبر یا ایجنسی نمبر کے ساتھ صرف اپنا نام اور مقام (مع ضلع اور صوبہ) واضح فرمائیں: znadwi@yahoo.com, Mob. 098994 30625 صدر اسلامی مرکز کا اردو ترجمہ قرآن‘ پاکٹ سائز میں چھپ کر گڈ ورڈ (Goodword) سے شائع ہو چکا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page