Al-Risala · March 2011 · page 34

کھونے میں پانا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴

کھونے میں پانا

انڈیا میں سول سروس کے امتحانات میں سب سے بڑا امتحان آئی اے ایس (IAS) سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہی امتحان ہے جس کو 1947 سے پہلے آئی سی ایس (ICS) کہا جاتا تھا۔ 2010 میں پورے انڈیا سے چار لاکھ امیدوار اس امتحان میں شریک ہوئے۔ مئی 2010 میں اس کا رزلٹ شائع ہوا ہے۔ اس کے مطابق ، آئی اے ایس کے اس امتحان میں کشمیر کے ایک مسلم نوجوان ڈاکٹر شاہ فیصل (26 سال) نے ٹاپ کا درجہ حاصل کیا۔

اس کہانی کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہ فیصل کے والد غلام رسول شاہ کپواڑہ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ اسکول کے ایک ٹیچر تھے۔ ایک بار کچھ ملٹنٹ وہاں آئے اور ان کے گھر میں ٹھہرنے کی فرمائش کی۔ غلام رسول شاہ نے ان کو اپنے گھر میں ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔ اس پر ملٹنٹ غصہ ہوگئے اور انھوں نے غلام رسول شاہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد حالات کے دباؤ کے تحت ڈاکٹر شاہ فیصل کی فیملی گاؤں چھوڑ کر سری نگر آگئی۔ یہاں ان کے لیے ، ان کی ماں کے الفاظ میں ، ایک ہی آپشن تھا ، اور وہ تھا سخت محنت اور یکسوئی (hard work and dedication)۔ شاہ فیصل کے باپ کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا ، اُس نے ان کو عمل کا ایک نیا محرک (incentive) دے دیا۔ وہ زیادہ سنجیدہ اور زیادہ محنتی بن گئے۔ باپ کی ناگہانی موت نے اُن کو ایک نئی زندگی دے دی۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (7 مئی 2010) کے رپورٹر نے درست طور پر لکھا ہے کہ — یہ دراصل ایک المیہ تھا جس نے شاہ فیصل کے خاندان کے لیے وسیع تر دنیا کی طرف ایک کھڑکی کھول دی:

It was the tragedy that opened a window to the wider world for the family (p. 1)

آدمی اگر مایوس نہ ہو تو محرومی اس کے لیے ایک نئی یافت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page