Al-Risala · March 2011 · page 35

صحیح مشورہ، غلط مشورہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۵

صحیح مشورہ، غلط مشورہ

افراد کی زندگی میں اور قوموں کی زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن کے مقابلے میں ایک سے زیادہ روش کو اختیار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نزاع (controversy) کے موقع پر یہ فیصلہ لینا کہ اس کے مقابلے کے لیے پرامن طریق کار اختیار کیا جائے یا پرتشدد طریق کار، معاملہ کو یک طرفہ بنیاد پر ختم کر دیا جائے، یا اس کو دو طرفہ بنیاد پر ختم کیا جائے، خاموشی اختیار کر لی جائے، یا فعال رول ادا کیا جائے، صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے، یا ٹکراؤ کا طریقہ، معاملے کو ہر قیمت پر فوراً ختم کر دیا جائے یا اس کے مقابلے میں کوئی لمبی کارروائی کی جائے، وغیرہ۔ ہر ایسے موقع پر دو قسم کے مشیر (advisors) سامنے آتے ہیں— صحیح مشورہ دینے والے اور غلط مشورہ دینے والے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ صاحب معاملہ شخص اکثر غلط مشورے کو لے لیتا ہے اور صحیح مشورے کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور حال میں بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ انسان اپنے معاملات میں صحیح مشورے کو قبول نہیں کر پاتا، وہ اکثر غلط مشورے کو مان لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ بعد کو نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو آدمی کے اوپر جذبات غالب آجاتے ہیں، وہ خالص عقلی (rational) انداز میں نہیں سوچ پاتا۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اُس وقت صحیح مشورے کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا، وہ جذبات کے زیر اثر ، غلط مشورے کو لے لیتا ہے، اگر چہ بعد کو اس کا نتیجہ مزید نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑے۔ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے متاثر ذہن کی بنا پر اُس کے بارے میں صحیح رائے نہیں قائم کر پاتا۔ مگر جو شخص معاملے سے الگ ہے، وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے اور صحیح رائے دے سکے۔ ایسی حالت میں صاحبِ معاملہ کو چاہیے کہ دوسرا شخص اگر سنجیدہ ہے تو وہ اُس کی رائے پر دھیان دے اور اگر بے لاگ جائزے میں اس کی رائے درست نظر آئے تو وہ اس کو قبول کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page