Al-Risala · March 2011 · page 37

ایک عام کمزوری

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷

سوال و جواب سوال اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن روایات میں آتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر وہی بگاڑ پیدا ہو جائے گا جو پچھلے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اندر پیدا ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو پھر ایسا کس طرح ممکن ہے کہ امت کے اندر وہی بگاڑ پیدا ہو جائے جو سابق اہل کتاب کے اندر پیدا ہوا تھا (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار) جواب یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے (9:15)، لیکن اس حفاظت کا تعلق دین اسلام کی حفاظت سے ہے، نہ کہ مسلم قوم کی حفاظت سے (5:3)۔ دین اسلام کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ دین کا متن (text) پوری طرح محفوظ رہے گا، تاکہ ہر زمانے میں ہدایت کا طالب اُس سے ہدایت پا سکے۔ لیکن جہاں تک مسلم قوم کا تعلق ہے، وہ اِسی طرح حالتِ امتحان میں ہے جس طرح دوسری قو میں حالتِ امتحان میں ہیں۔ اِس سلسلے میں جتنی بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ سب صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ دین کا معاملہ اور قوم کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ ختم نبوت کا تقاضا ہے کہ دین کا متن قیامت تک محفوظ رہے۔ مگر جہاں تک مسلم قوم کا معاملہ ہے، اُس کے لیے عروج و زوال (rise & fall) کا وہی عام قانون ہے جو دوسری اہل کتاب امتوں کے لیے ہمیشہ سے رہا ہے۔ اِس معاملے میں کسی قوم کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ کچھ لوگوں نے غلط طور پر یہ نظریہ بنایا ہے کہ جس طرح دین ایک محفوظ دین ہے، اُسی طرح مسلم امت بھی ایک محفوظ امت ہے۔ مگر یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے، اس کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں موجود نہیں ۔ مثال کے طور پر امت کی محفوظیت کا نظریہ اس روایت سے نکالا جاتا ہے کہ: اِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى الضَّلَالَةِ (ذخيرة الحفاظ للقيسرانی، 1/364) مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ امت کی اکثریت ضلالت سے محفوظ رہے گی۔ یہ حدیث افراد کی نسبت سے ہے، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے، یعنی امت کے عام

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page