ایک عام کمزوری
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸
بگاڑ کے زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد ہوں گے جو عمومی بگاڑ کے زمانے میں بھی ہدایت پر قائم رہیں گے۔ اسی لیے ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: أن تستجمعوا كلكم على الضلالة (مسند إسحاق بن راهويه، رقم الحدیث: 363) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا تو اس وقت بھی کچھ افراد اس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے۔
سوال
عرض ہے کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں مسلمانوں کو ان کی سیاسی زندگی میں قرآن اور حدیث سے کیا رہنمائی ملتی ہے براہ کرم، واضح فرمائیں۔ (محمد یحییٰ ارسلانی قاسمی، پالم کالونی، نئی دہلی) جواب اس معاملے میں قرآن اور حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہندوستان کے مسلمان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان سیاست کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور وہ صرف غیر سیاسی دائرے میں کام کریں۔ مثلاً تعلیم، دعوت، تجارت اور تعمیر، وغیرہ۔ کام کا تعین ہمیشہ حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی مفروضہ معیار کے اعتبار سے۔ حالات کا لحاظ کیے بغیر کسی مفروضہ معیار کو لے کر جو کام شروع کیا جائے، وہ صرف بے نتیجہ ٹکراؤ پیدا کرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ اپنے سیاسی ذہن کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں۔ چوں کہ حالات موافق نہیں ہیں، اس لیے ان سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں اُن کو جو چیز ملی ہے، وہ صرف یہ ہے— شکایت، احتجاج، نفرت، منفی سوچ اور تشدد، وغیرہ۔ اس طرح کی تمام چیزیں صرف یک طرفہ طور پر مسلمانوں کے نقصان کا باعث ہیں، وہ اُن کو کوئی مثبت نتیجہ دینے والی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قدیم مکہ میں سیاسی اقتدار کی پیش کش کی گئی۔ مکہ کے معاصر سرداروں نے آپ سے کہا: إن تريد ملكاً، ملكناك علينا (اگر آپ اقتدار چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اقتدار دینے کے لیے تیار ہیں) آپ نے اس سیاسی پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملك عليكم (السيرة النبوية لابن هشام، 1/296) یعنی میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues