In present age, nationhood is based on homeland.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰
1- نئی دہلی میں 14-3 اکتوبر 2010 کے درمیان کامن ویلتھ گیم (2010-CWG) کا انعقاد ہوا۔ گیم کے دوران بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں اور شرکا کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ ہمارے ساتھی جو کھیل گاؤں (نئی دہلی) میں دعوتی لٹریچر لے کر گئے تھے، ان میں سے ایک ساتھی نے اس سلسلے میں سی پی ایس کے ایک ممبر سے ان الفاظ میں اپنا تاثر بیان کیا :
Glory be to God, all the things are turning out very well beyond imagination and the distribution is in full swing. 2- نئی دہلی کے اسلامک کلچرل سنٹر میں اردو پریس کلب (نئی دہلی) کی طرف سے 15 اکتوبر 2010 کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ اس کا عنوان یہ تھا نیشنل ازم کو کیسے فروغ دیا جائے: How to Promote Nationalism اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس سیمینار (seminar) میں شرکت کی اور موضوع پر 15 منٹ کی ایک تقریر کی ۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ حب وطن انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے اندر نیا ذہن نو آبادیاتی دور میں پان اسلام ازم (Pan-Islamism) کی تحریک کے تحت پیدا ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی (وفات : 1957) نے اس نقطۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ــــ فی زمانہ قو میں اوطان سے بنتی ہیں:
In present age, nationhood is based on homeland.
مگر اس بیان سے مسلمانوں کا ذہن بدل نہ سکا، کیوں کہ مسلم علماء نے یہ کہہ دیا کہ مولانا مدنی نے جو کچھ کہا، وہ انشا نہ تھی، بلکہ خبر تھی ۔ ضرورت ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کے ذہن کی اصلاح کی جائے، ورنہ مسلمان ہر ملک میں غیر وفادار بن کر رہ جائیں گے۔
3- الرسالة مشن سے وابستہ ایک ساتھی نے امام حرم مکی شیخ عبد الرحمن السدیس سے ایک خصوصی پروگرام کے دوران مکہ میں ان کے گھر پر ملاقات کی ۔ ملاقات کے وقت انھوں نے دیکھا کہ امام حرم کے مطالعے کی میز پر صدر اسلامی مرکز کی کتاب الإسلام يتحدى رکھی ہوئی ہے۔ ہمارے ساتھی نے امام صاحب سے پوچھا کہ آپ شیخ وحید الدین کو جانتے ہیں۔ امام حرم نے کہا کہ شیخ وحید الدین دورِ جدید کے عظیم داعی اور مفکر ہیں، ان سے کون نا واقف ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دعوت اسلامی کے احیاء اور اسلام اور دورِ جدید کی نسبت سے شیخ وحید الدین نے جو کام کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک تجدیدی کام ہے۔ ہمارے ساتھی نے ان کو بتایا کہ شیخ وحید الدین کی تفسیر کا عربی ایڈیشن مصر سے شائع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں تذکیر القرآن (عربی) کا ایک سیٹ امام حرم کو صدر اسلامی مرکز کی طرف سے حسب ذیل خط کے ساتھ (22 اکتوبر 2010) کو دستی طور پر روانہ کیا گیا :
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues