Al-Risala · March 2011 · page 39

ایک عام کمزوری

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

تمہارے اوپر اقتدار کا طالب نہیں : I seek not sovereignty over you رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مکئی حالات کے اعتبار سے یہ فیصلہ کیا۔ آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ آپ نے سیاسی عمل (political activism) کے بجائے دعوتی عمل (dawah activism) کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ۔ آپ نے نتیجے کو سامنے رکھ کر اپنا منصوبہ بنایا، نہ کہ مفروضہ معیار کو سامنے رکھ کر۔

اس معاملے میں دوسری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ اگر مسلمانوں کا یہ خیال ہو کہ اُن کے لیے موجودہ حالات میں سیاست میں حصہ لینا ضروری ہے، کیوں کہ یہ جمہوری دور ہے اور جمہوری دور میں اگر کوئی گروہ ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہو تو وہ پولیٹکل ایلی نیشن (political alienation) میں مبتلا ہو جائے گا، یعنی ایسا گروہ سیاسی اعتبار سے الگ تھلگ ہو کر رہ جائے گا۔ اس دوسری حالت میں اُن کے لیے سنتِ یوسفی کا نمونہ موجود ہے۔ سنتِ یوسفی جیل میں جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ سنتِ یوسفی دراصل سیاسی مصالحت (political adjustment) کا نام ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ وہ شراب پیتا تھا۔ ملک میں اسی مشرک بادشاہ کا قانون نافذ تھا۔ اس کے باوجود حضرت یوسف نے مصالحت کا انداز اختیار کرتے ہوئے بادشاہ کے سیاسی نظام میں شرکت قبول کر لی ۔ سیاست کا یہ طریقہ موجودہ زمانے میں ہر مسلمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت میں اُن کے لیے واضح سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ اپنے فخر پسندانہ مزاج کی بنا پر سیاسی سرکشی کو سیاست سمجھتے ہیں، اور چوں کہ کسی ملک میں ان کے لیے سیاسی سرکشی کے مواقع حاصل نہیں ، اس لیے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اور سنت میں ان کے لیے سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ مسلمانوں کے خود ساختہ سیاسی شاکلہ (political framework) کو توڑنا ہے۔ موجودہ سیاسی شاکلہ کی موجودگی میں قرآن اور سنت کی رہنمائی مسلمانوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page