الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۵۱
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۵۱
انسانی تاریخ کا مطالعہ خدا کے تخلیقی پلان کی روشنی میں انسان پوری کائنات میں ایک انوکھا استثنا (exception) ہے۔ قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: خلقتُ بيديّ (38: 75) یعنی انسان کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ حدیث میں انسان کے بارے میں آیا ہے کہ: خلق الله آدم علی صورته (صحيح البخاري، رقم الحديث: 5873) یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ قرآن اور حدیث کے ان حوالوں سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ نے ایک استثنائی مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، اور استثنائی مخلوق کے طور پر اس کو پیدا کرنا اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے خالق کو اُس سے ایک استثنائی کردار (role) مطلوب ہے۔ کائنات کی تاریخ کو اگر بگ بینگ (Big Bang) کے واقعے سے شمار کیا جائے تو کائنات کی تاریخ تقریباً 15 بلین سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں خالق نے بے شمار چیزیں پیدا کیں۔ آخر میں اُس نے انسان کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، خالق نے انسان کو احسن تقویم (4: 95) کے ساتھ پیدا کیا اور اس کو ایک مکرم مخلوق (exalted creature) کا درجہ دیا (70: 17)۔ قرآن سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے سوا جو بقیہ موجودات ہیں، وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وسخّر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعاً منه، إن في ذلك لآيات لقوم يتفكّرون (13: 45)۔ قرآن کی یہ آیت ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوئی ۔ عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی میں سائنسی تحقیقات نے اس حقیقت کی علمی تصدیق کی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پوری کائنات ایک کسٹم میڈ کا ئنات (custom-made universe) ہے۔ اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے برٹش سائنس داں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues