انسانیت کی تاریخ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳
الفریڈ رسل (Alfred Russel Wallace) نے لکھا ہے:
Such a vast and complex universe as that which we know exists around us, may have been absolutely required in order to produce a world that should be precisely adapted in every detail for the orderly development of life culminating in man. (The Times of India, New Delhi, September 26, 2010)
انسانیت کی تاریخ
مؤرخین نے تاریخ نگاری کے مختلف اسلوب اختیار کیے ہیں۔ مثلاً شاہی خاندان (dynasty) کو یونٹ (unit) بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مصر کے فرعون کی خاندانی بادشاہت، روس کے زار (Tzar) کی خاندانی بادشاہت، یا ایمپائر (empire) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا۔ مثلاً رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر (Sasanid empire)، یا تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مسلم تہذیب، مغربی تہذیب، وغیرہ۔ لیکن تاریخ نگاری کا ایک اور اسلوب ہے جو زیادہ بامعنی اسلوب ہے، وہ یہ کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کی بنیاد پر تاریخ لکھی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مورخین نے انسانیت کے جن پہلوؤں کو اہم قرار دے کر ان کی نسبت سے تاریخ لکھی ہے، وہ سب تاریخ کے اضافی (relative) پہلو ہیں۔ تاریخ نگاری کا حقیقی پہلو (real) یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ تخلیق کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، انسانی تاریخ کو مرتب کیا جائے۔ اس اعتبار سے بنیادی طور پر انسانی تاریخ کے چار دور ہیں:
1- انبیاء (prophets) کا دور، یہ دور حضرت آدم سے حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔ 2- صحابہ کا دور، یعنی پیغمبر اسلام کے اصحاب (companions) کا دور۔ 3- الاخوان کا دور، یعنی وہ لوگ جن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ 4- الصالحون کا دور، یہ دور قیامت کے بعد آخرت میں شروع ہوگا۔
خدا نے انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ بہت سے انسانوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، اور کچھ لوگوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ اس طرح یہ تاریخ مختلف حالات سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے خدا اس تاریخ کو مینیج (manage)
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues