Al-Risala · April 2011 · page 6

جن اور انس کی تخلیق

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۶

استعمال کر کے اپنے خالق اور اپنے رب کو دریافت کرے۔ پھر وہ اپنے آپ کو خالق کے منصوبہ میں شامل کرے، وہ اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے کہ خدا اس کو اپنے اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے لائق امیدوار (deserving candidate) ثابت کرے۔

قرآن کی یہ آیت اس سلسلے میں رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے: خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملاً (2: 67)۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا ایک انتخابی مقام (selection ground) ہے۔ یہاں آزادی کے ماحول میں انسان کو رکھ کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct) ثابت کرتا ہے۔

زندگی کا یہ تصور، زندگی کو نہایت با معنی بنا دیتا ہے۔ برٹش سائنس داں سر جیمز جینز (James Jeans) نے دیکھا کہ انسان اس دنیا میں آتا ہے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال نہیں کر پاتا، اس کی خواہشوں کو فل فل منٹ (fulfillment) نہیں ملتا اور وہ مرکز اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی: Man has strayed into a world which has not been made for him. لیکن قرآن کے مذکورہ تصورِ حیات کی روشنی میں دیکھیے تو انسانی زندگی ایک انتہائی با معنی واقعہ بن جاتی ہے۔ قرآن میں خدا کی صفت احسن الخالقین (4: 95) بتائی گئی ہے۔ دوسری طرف انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ احسن العمل (2: 67) بنے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی جو صفت خدائی سطح پر ہے، وہی صفت انسان سے انسانی سطح پر مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خدا کی یہ صفت، قدرت کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور انسان کے اندر یہ صفت، اطاعت (obedience) کی سطح پر۔

ایک مشہور قول ہے : تخلقوا بأخلاق الله (شرح العقيدة الطحاوية، جلد 1، صفحہ 120) یعنی اللہ والے اخلاق کو اپناؤ۔ یہ قول حدیث رسول نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کے مذکورہ بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقِ خداوندی کے مشابہ بنائے، کسی مجبوری کے بغیر وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے احسن العمل بنے۔ جو لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page