Al-Risala · April 2011 · page 7

انبیاء کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۷

اس معیار پر پورے اتریں، وہ خدا کے مطلوب انسان قرار پائیں گے۔ ان کو آخرت کی معیاری دنیا میں خدا کے پڑوس میں جگہ ملے گی (66 : 11)۔ وہ اس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو خدا کی مہمان داری (hospitality) کا شرف حاصل ہوگا (32 : 41)۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات اللہ کی اطاعت کر رہی ہے (26 : 30)۔ اس اعتبار سے، مادی کائنات انسان کے لیے اطاعت الہی کے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان کامل آزادی کے باوجود خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دیتا ہے، جب کہ بقیہ کائنات جبر (compulsion) کے تحت یہ اطاعت کر رہی ہے۔

اختیاریانہ اطاعت (submission by choice) ایک استثنائی ظاہر ہے جس کا ثبوت اس دنیا میں صرف انسان دیتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ذرہ سے لے کر ستاروں (stars) اور سیاروں (planets) تک، کامل طور پر خالق کی عظمت بیان کر رہی ہے، مگر اُن کا یہ بیان خاموش زبان میں ہے۔ ایسی ایک دنیا میں انسان کھڑا ہو کر نُطْق (speech) کی زبان میں کہتا ہے کہ ـــ خدایا، تو سب سے بڑا ہے۔ میں تیری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو تیرے آگے جھکاتا ہوں۔ یہ صرف انسان ہے جو شعور کی سطح پر خالق کو دریافت کرتا ہے اور پھر اپنے شعور کی سطح پر خالق کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے مکمل طور پر اپنے آپ کو سرینڈر (surrender) کر دیتا ہے۔ یہی شعوری سرینڈر جنت کی قیمت ہے۔

انبیاء کا دور

خالق کے منصوبہ (creation plan) کے مطابق، انسان کو ٹیسٹ (test) کے لیے اس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ ٹیسٹ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا معیار (criterion) کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ کون شخص ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اس ملی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق جاننے کے لیے خالق نے پہلا انتظام یہ کیا کہ انسان کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز رکھ دی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَأَلْهَمَهَا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page