الحمدللۂ کلچر
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
سیاسی اقتدار (political power) کی سرپرستی حاصل کرلی تھی، اس لیے الحمدلغیر اللہ کلچر کا خاتمہ کرنے کے لیے وقت کے سیاسی اقتدار سے مسلح ٹکراؤ پیش آیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں دو بڑے سیاسی ایمپائر تھے جو الحمدلغیر اللہ کلچر کے فعال سرپرست بنے ہوئے تھے۔ یہ تھے — رومن ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر۔ وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ الحمدلغیر اللہ کلچر کا رواج پوری طرح قائم رہے۔ چناں چہ انھوں نے عرب کے صحرا میں اٹھنے والی تحریک توحید یا الحمدلغیر اللہ کلچر کو اپنے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا اور اس کے خلاف خود اپنی طرف سے مسلح کارروائی کا آغاز کردیا۔ اس کے نتیجے میں اصحاب رسول کورومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں دفاعی طور پر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں اصحاب رسول کی طاقت تقریباً صفر (zero) کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کی۔ ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ دونوں ایمپائرز دس سال کے اندر دو بار خود ایک دوسرے کے خلاف مسلح جنگ میں مبتلا ہو گئے۔ اس باہمی ٹکراؤ نے دونوں کو آخری حد تک کمزور کر دیا۔ باہمی جنگ کے ذریعے پیش آنے والی یہی دوطرفہ مغلوبیت ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ الروم کی ابتدائی آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے (30:2-5)۔ بائبل میں کئی ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کا تعلق اصحاب رسول سے ہے۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جس کا تعلق رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کی مغلوبیت کے اسی واقعے سے ہے۔ اس واقعے کو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — اٗس نے نگاہ کی اور قو میں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے، قدیم ٹیلے جھک گئے :
He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)
خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب کے زمانہ خلافت (644-634ء) میں صحابہ کی جماعت ایران میں داخل ہوئی۔ ان کی فتوحات کو دیکھ کر ایران کا سپہ سالار رستم مرعوب ہو گیا۔ اس نے صحابہ کے وفد کو اپنے دربار میں گفت و شنید کے لیے بلایا۔ گفتگو کے دوران رستم نے صحابی رسول ربعی بن عامر سے پوچھا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues