الحمدللۂ کلچر
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸
کی اصل مدح ہے، لیکن حمد میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے، حمد کا مطلب اعلیٰ تعریف (high praise) ہے۔ جس ہستی کی تعریف کی جائے اُس کے لحاظ سے تعریف کرنے والے کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص اللہ کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ الحمد للہ، تو یہ سادہ طور پر صرف مدح اور تعریف کا ایک کلمہ نہیں ہوتا، اُس میں شکر و اعتراف، احسان مندی اور جذباتی تعلق جیسے تمام اعلیٰ احساسات لازمی طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے حمد، مدح کے معنی میں ہے، لیکن استعمال کی نسبت سے اس میں معنوی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حمد کے لغوی معنی اگرچہ وہی ہیں جو مدح کے معنی ہیں، لیکن حمد کا لفظ جب رب العالمین کی نسبت سے بولا جائے تو وہ مدح پلس (praise plus) کے ہم معنی بن جائے گا۔
ایک انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے، وہ کائنات کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیق کے مظاہر میں خالق کو دریافت کرتا ہے، تو اس کے اندر احساسات کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ اُس وقت وہ بے تابہ طور پر کہہ اٹھتا ہے: الحمد للہ ربّ العالمین۔ یہ شعوری حمد خدا کی ہستی کا اعلیٰ ترین اعتراف ہے، اس کے بعد اعتراف کا اور کوئی درجہ نہیں۔
انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کو پائے اور اس کے لیے اپنی طرف سے کمال اعتراف کے جذبات پیش کرے۔ انسان جب ایک خدا کو اپنی اس فطرت کی پکار کے جواب کے طور پر دریافت کرے، تو اسی کا نام توحید ہے۔ اور جب انسان اپنے ان جذبات کو کسی غیر خدا کی طرف منسوب (attribute) کردے اور اُس سے وہ تعلق پیدا کرلے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یحبونهم كحب الله (165: 2) تو اسی کا نام شرک ہے۔ توحید پر مبنی دین، اللہ کا مطلوب دین ہے اور شرک پر مبنی دین، اللہ کا غیر مطلوب دین۔ اصحاب رسول کا ایک استثنائی رول تھا۔ وہ رول یہ تھا کہ وہ تاریخ میں الحمدلغیر اللہ کلچر کے غیر مطلوب تسلسل کو توڑیں اور الحمد للہ کلچر کے مطلوب دور کا آغاز کریں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں قتال (جنگ) کا لفظ زمانے کی رعایت سے آیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صورت حال تھی کہ الحمدلغیر اللہ کلچر نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues