مشترک تائیدی عمل
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱
اپنے زمانے میں پہچانا نہیں جاتا (A prophet is never honored in his own land)۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنے معاصرین کو عام انسانوں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو ایسے فرد یا گروہ کے ساتھ بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات اُن کے نام کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ بعد کے زمانے کے لوگ جب اُن کا نام لیتے ہیں تو ایک تاریخی انسان یا تاریخی گروہ کا تصور ان کے ذہن میں آتا ہے، نہ کہ اُس انسان یا اُس گروہ کا تصور جو کہ خود اپنے زمانے میں پایا جاتا تھا۔ حقیقی انسان اور تاریخی انسان کا یہی فرق دوبارہ کام کرے گا اور لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ سابق اصحاب رسول کی عظمت تو خوب بیان کریں گے، لیکن وہ اپنے معاصر اخوان رسول کو کم تر سمجھ کر اُنھیں نظر انداز کردیں گے۔
مشترک تائیدی عمل
ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کی جماعت کا بننا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا، وہ ایک لمبے تائیدی عمل کے ذریعے انجام پایا۔ یہ تائیدی عمل تھا۔ صحرائی حالات میں خصوصی تربیت کے ذریعے بنو اسماعیل کی نسل کو وجود میں لانا۔ اس نسل کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ غیر فطری ماحول کی کنڈیشنگ سے پاک تھی۔ اس بنا پر یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی استثنائی صلاحیت رکھتے تھے۔ اسی صلاحیت قبولیت کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: یکاد زيتها يضيئ ولو لم تمسسه نار (24:35)۔
بیسویں صدی عیسوی میں ڈی کنڈیشنگ کا یہ واقعہ ایک اور نظام کے تحت پیش آیا۔ یہ سیکولر تہذیب کے تحت سیکولر تعلیم اور سیکولر افكار (secular thoughts) کا نظام تھا۔ موجودہ زمانے کے سیکولر تعلیمی اداروں کو بعض لوگوں نے منفی نام دے کر قتل گاہ (slaughter house) بتایا۔ اسی طرح انھوں نے جدید سیکولر تہذیب کو اسلام دشمن تہذیب کہا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ادارے ڈی کنڈیشنگ کے ادارے (institutions of de-conditioning) تھے۔ ان جدید تعلیمی اداروں نے یہ کیا کہ وہاں تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلہ کو توڑ کر اُن کو اس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات (prejudices) سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اٹ از (as it is)
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues