Al-Risala · April 2011 · page 22

مسلم دور اقتدار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

دیکھ سکیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔

اس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پا کر جو افراد تیار ہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے ’’بنو اسماعیل‘‘ تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت، غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اس قابل تھے کہ اُن کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اُس کے بارے میں آزادانہ طور پر سوچیں اور اس کو قبول کر لیں۔ اس طرح یہ جدید نسل اُن لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔ یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔

مسلم دور اقتدار

رسول اور اصحابِ رسول 622 عیسوی میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مدینہ میں مسلمانوں کا ایک سٹی اسٹیٹ (city state) قائم ہو گیا، یعنی شہری ریاست۔ 632 عیسوی میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو پورا عرب مدینہ کے سیاسی سنٹر کے تحت آچکا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کا سیاسی اقتدار تیزی سے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔ یہ مسلم اقتدار مختلف نشیب و فراز کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک باقی رہا۔

یہ مسلم سیاسی اقتدار اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک ایمپائر (empire) کا درجہ رکھتا تھا۔ وہ اصولاً اسلام کی آئیڈیالوجی پر قائم تھا۔ اس طویل دور اقتدار میں انسانیت کو بہت سے مثبت فائدے حاصل ہوئے۔ مثلاً انسانی مساوات کے دور کا آنا، توہم پرستی کا خاتمہ، عدل وانصاف کا قیام، وغیرہ۔ اگر چہ فطرت کے عام قانون کے مطابق مسلم اقتدار کے طویل دور میں بہت سی کمیاں پائی جاتی تھیں، لیکن عملی اعتبار سے اس دور نے انسانی تاریخ کو ایک نئے دور ترقی سے آشنا کیا۔ مسلم دورِ اقتدار کا سب سے زیادہ دور رس رول یہ تھا کہ اُس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار علم کو عمومی توسیع کے درجے تک پہنچایا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے علم کا دائرہ بہت محدود تھا۔ عام طور پر لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page