Al-Risala · January 2011 · page 16

تاریخ بشری کے پانچ دور

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۶

تاریخ بشری کے پانچ دور

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سیارہ ارض (planet earth) پر بسایا۔ انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلسل پیغمبر بھیجے۔ اس سلسلۂ نبوت کے آخری پیغمبر محمد ﷺ تھے۔ اس کے بعد دعوت الی اللہ کی تاریخ مختلف ادوار سے گزرتی رہی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس آخری دور کے خاتمہ کے بعد قیامت برپا ہوگی اور پھر تاریخ بشری کا وہ تکمیلی دور شروع ہو جائے گا جس کو جنت کا دور کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے یہ پانچ ادوار حسب ذیل ہیں: 1- اعلانِ حق (proclamation of divine truth)

2- اظہارِ دین (reprocessing of hisotry)

3- تائیدِ دین (supporting role)

4- ادخالِ کلمہ (global dawah)

5- دورِ جنت (age of eternal paradise)

دعوت کی نسبت سے تاریخ بشری کا پہلا دور آدم سے شروع ہوا، جو کہ پہلے انسان (first man) بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس پہلے دور کا خاتمہ پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر ہوا۔ آپ نے 610 عیسوی میں اپنی نبوت کا آغاز کیا۔ اس پہلے دور میں جو کام انجام پایا، وہ بنیادی طور پر یہ تھا کہ ہر نسل کے انسانوں کو وحی پر مبنی سچائی سے آگاہ کر دیا جائے۔ آخری پیغمبر کے زمانے میں خدا کی کتاب (قرآن) مکمل طور پر ایک محفوظ کتاب (preserved book) بن گئی۔ بعد کے دور میں یہ محفوظ کتاب، ہدایت کے حصول کے لیے پیغمبر کا بدل بن گئی۔ اس لیے پیغمبر آخرالزماں کے بعد کوئی پیغمبر اللہ کی طرف سے بھیجا نہیں گیا۔ اظہارِ دین دوسرے دور کے کام کو قرآن میں اظہارِ دین (28 : 48) کہا گیا ہے۔ یہ کام بنیادی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page