تائید دین
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷
ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کی طاقت ور ٹیم کے ذریعے انجام پایا۔ اصحاب رسول جن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی، انھوں نے، اور اس کے بعد تابعین کی جماعت نے اس کام کو بخوبی طور پر انجام دیا۔ اس کام کی خصوصی اہمیت کو اگر مذہبی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ انھوں نے دور شرک کو ختم کرکے دور توحید کا آغاز کیا۔ اور اگر اس کام کو سیکولر اصطلاح میں بیان کیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ انھوں نے توہم پرستی (superstition) کے دور کو ختم کیا اور سائنس کے دور کا آغاز کیا۔ صحابہ اور تابعین کے اس عمل کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں سارے واقعے کو براہ راست طور پر انجام دے دیا۔ ان کے رول کی اصل اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے انسانی تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع کیا۔ یہ پراسس تقریباً ایک ہزار سال میں اپنی آخری تکمیل (culmination) تک پہنچا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں دعوت کے موافق حالات پیدا ہوئے۔ مثلاً مذہبی آزادی آئی، جمہوریت کا زمانہ آیا، حقیقت پسندی، بالفاظ دیگر سائنسی طرز فکر کا رواج شروع ہوا، وغیرہ۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان ظہور میں آنے والا سائنسی انقلاب دراصل اسی پراسس کی تکمیل ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں صحابہ اور تابعین کے ذریعے عرب میں شروع ہوا اور پھر بتدریج وہ یورپ تک پہنچا۔
تائید دین
اس تاریخی عمل کا تیسرا دور وہ ہے جس کو حدیث میں تائید دین کہا گیا ہے۔ مذکورہ کام کی انجام دہی کے بعد اب ضرورت تھی کہ خدائی سچائی کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔ مگر اس عالمی دعوت کی انجام دہی کے لیے امتحان کی اس دنیا میں اسباب کی ضرورت تھی۔ خصوصی طور پر ایسے مواصلاتی ذرائع جن کی مدد سے پیغام رسانی کے کام کو عالمی سطح پر انجام دینا ممکن ہوجائے۔ عالمی دعوت کے لیے ایسے مواصلاتی نظام کو وجود میں لانے کا کام مسلمان انجام نہ دے سکے۔ چناں چہ اللہ تعالی نے اس مقصد کے لیے مغرب کی غیر مسلم قوموں کو استعمال کیا۔ یہ گویا کہ وہی طریقہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ مغربی قوموں نے لمبی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues