Al-Risala · May 2011 · page 4

فيه ذكركم

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۴

فيه ذكركم

قرآن کی سورہ الانبیاء میں ارشاد ہوا ہے: لقد أنزلنا إليكم كتابا فيه ذكركم (21:10) یعنی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمھارا ذکر ہے، پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔ قرآن کی اس آیت میں ’’ذکر‘‘ سے مراد اصلاً تذکیر یا یاد دہانی ہے، لیکن اس کا ایک تو سیعی مفہوم بھی ہے۔ اسی مفہوم میں مجاہد تابعی نے کہا: فيه ذكركم، أي فيه حديثكم (القرطبی 11/273) یعنی قرآن میں تمھاری بات ہے۔

راقم الحروف کو مجاہد تابعی کی اس بات سے اتفاق ہے۔ میں نے خود ایسا کیا کہ قرآن کو بار بار پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ قرآن میں میرا ذکر کہاں ہے، یعنی قرآن کی وہ آیت کون سی ہے جس کو میں سمجھ سکتا ہوں اس میں میرا معاملہ مذکور ہے۔

آخر کار میں نے قرآن کی ایک آیت میں اپنا حوالہ پالیا۔ وہ قرآن کی سورہ حم السجدہ کی آیت نمبر 53 تھی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں اور نفس میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ (قرآن) حق ہے:

We shall show them Our signs in the universe and within themselves, until it becomes clear to them that this is the Truth. (41: 53)

جدید سائنس دراصل آیاتِ فطرت کا علم ہے۔ چناں چہ میں نے اس پہلو سے دین کی خدمت کا فیصلہ کر لیا۔ میری تقریباً تمام کتابیں جدید علوم کی نسبت سے اسلام کی تشریح ہیں۔ ابتداء میں اس پہلو سے چند پمفلٹ لکھے۔ مثلاً ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘ (1955)، ’’حقیقت کی تلاش‘‘ (1958)۔ اس کے بعد ایک باقاعدہ کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (1966) کے نام سے تیار کی۔ میری تمام کتابیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ میری تمام کتابوں کا ایک ہی مشترک عنوان ہے۔ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page