Al-Risala · May 2011 · page 3

اسباب کا پردہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۳

اسباب کا پردہ

خدا کے وجود پر زندہ یقین سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ خدا کے وجود پر زندہ یقین نہیں کر پاتے ، یہاں تک کہ کچھ لوگ اس انتہا پسندی تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ خدا کے منکر بن جاتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے پوری انسانی تاریخ میں موجود رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اس دنیا میں خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، تمام واقعات اسباب وعلل (cause and effect) کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ ہر واقعہ جو ہمارے علم میں آتا ہے، بظاہر اُس کا ایک سبب دکھائی دیتا ہے۔ اس بنا پر لوگ واقعہ کو اُس کے سبب کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، ظاہری مشاہدہ کی بنا پر وہ واقعات کو خدا کی طرف منسوب نہیں کر پاتے ۔

یہ صورتِ حال ہمیشہ سے تاریخ میں موجود رہی ہے، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں کے بعد اُس نے ایک باقاعدہ نظریہ کی صورت اختیار کر لی ہے جس کو قانونِ تعلیل (law of causation) کہا جاتا ہے۔ سائنسی تحقیقات نے جب دور بینی اور خورد بینی مشاہدات کے ذریعے کائنات میں ہونے والے واقعات کے پیچھے فطری اسباب کو دریافت کیا تو یہ سمجھا جانے لگا کہ سب کچھ اسباب کے تحت ہورہا ہے۔ سائنسی دریافتوں کے حوالے سے یہ کہا جانے لگا کہ اگر واقعات فطری اسباب کے تحت ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کے تحت نہیں ہو سکتے :

If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یہی موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ ظاہری اسباب کے پیچھے خالق کی کارفرمائی کو دیکھ سکے ۔ وہ یہ دریافت کر سکے کہ اس معاملے میں اسباب محض ایک پردہ ہیں ، نہ کہ اصل حقیقت۔

اسی دریافت کا نام ایمان ہے، اور اس دنیا میں جو لوگ اس دریافت کا ثبوت دیں، وہی اللہ کے یہاں اس قابل ٹھہریں گے کہ اُن کو انعام کے طور پر ابدی جنت میں داخل کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page