Al-Risala · May 2011 · page 8

با مقصد انسان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۸

با مقصد انسان

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رُبَّ أشعث أغبر مدفوع بالأبواب، لو أقسم على الله لأبرَّه (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب ) یعنی کچھ (اللہ کے بندے) ایسے ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ضرور ان کی قسم پوری کرے گا۔ اس سے مراد کوئی مجذوب انسان نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد با مقصد انسان ہے۔ جو آدمی ربانی مقصد کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے، وہ اس مقصد میں اتنا زیادہ گم ہو جائے کہ اس کو جسمانی آرائش کی کوئی فکر نہ رہے، ربانی مقصد کے سوا جس کا کوئی اور مقصدِ حیات نہ رہے، اُس انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہ خصوصی معاملہ ہوتا ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔ تا ہم یہ حدیث مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ اس سے مراد مادی چیزیں یا دنیوی مرغوبات نہیں ہیں۔ اس قسم کی چیزیں مذکورہ انسان کا ہدف نہیں ہوتیں۔ اس لیے وہ ان کا طالب بھی نہیں بنتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو با مقصد زندگی کا تقاضا ہوتی ہیں۔ ایک با مقصد انسان جب اپنے آپ کو ربانی مقصد میں لگا دیتا ہے تو ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اپنے وسائل (resources) ناکافی ہیں اور خدا کی خصوصی مدد کے بغیر وہ اپنے مقصدی سفر کو جاری نہیں رکھ سکتا، اُس وقت وہ بے قرار دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے اور اپنے رب کی طرف سے اس کا مثبت جواب پاتا ہے۔

یہی وہ استثنائی معاملہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ حدیث کسی انسان کے پر اسرار (mysterious) معاملے کو نہیں بتاتی، یہ اُس انسان کے فطری معاملے کو بتاتی ہے جو ربانی مقصد میں اپنے آپ کو آخری حد تک شامل کر دے، خدا کے سوا جس کے لیے کوئی اور چیز اُس کے مدعائے حیات کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page