خصوصی رحمت کا معاملہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۹
خصوصی رحمت کا معاملہ
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری نے اس کو چار ابواب، کتاب الادب، كتاب المظالم، کتاب التوحيد، کتاب التفسیر، کے تحت درج کیا ہے۔ اس روایت کا ترجمہ یہ ہے: صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ایک آدمی (سعید بن جبیر التابعی) نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجویٰ (خدا اور بندہ کے درمیان سرگوشی) کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص (حشر کے دن) اپنے رب کے پاس آئے گا، یہاں تک کہ وہ خدا سے بالکل قریب ہو جائے گا۔ اللہ اُس سے کہے گا کہ تم نے ایسا کیا اور ایسا کیا۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر اللہ اس شخص سے کہے گا کہ تم نے ایسا اور ایسا کیا۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر بندہ اپنے (گناہ) کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمھاری پردہ پوشی کی، اب آج میں تم کو معاف کرتا ہوں۔ (إنی سترتُ عليك فى الدنيا، فأنا أغفرها لك اليوم) صحيح البخاري، کتاب الأدب، باب ستر المؤمن نفسه۔
مسلم نے اس روایت کو کتاب التوبہ کے تحت نقل کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اُس انسان کا کیس ہے جس سے گناہ کا واقعہ ہو جائے، پھر وہ شدید طور پر توبہ اور استغفار کرے، یہ صرف قیامت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس دنیا میں پیش آنے والے ایک واقعے کا اخروی پہلو ہے، یعنی دنیا میں بندہ نے نہایت شدید طور پر توبہ واستغفار کا ثبوت دیا تھا، اس بنا پر قیامت کے دن اللہ کی خصوصی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوگی اور اس کو بخشش کا پروانہ دے دیا جائے گا۔ اس روایت میں دراصل ایسے انسان کا ذکر ہے جس سے بشری تقاضے کے تحت کوئی غلطی سرزد ہو جائے، مگر اس کے بعد وہ غفلت یا سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کرے، بلکہ وہ شدید قسم کے توبہ وانابت کا ثبوت دے۔ یہ توبہ وانابت صرف ایک بار بوقت گناہ نہ ہو، بلکہ وہ ساری عمر اللہ سے معافی کا طلب گار بنا رہے، وہ صبح وشام اللہ کی پکڑ سے ڈرتا رہے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قیامت میں مذکورہ قسم کی خصوصی رحمت ومغفرت حاصل ہوگی۔