جنت کی طلب
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱
ایسا نہ کرو کہ سابقہ بیوی سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے لو۔ جو مال تم اس کو دے چکے ہو، اُس کو واپس لینا، اعلیٰ اخلاقی اصول کے خلاف ہے۔
قرآن کی یہ آیت بظاہر طلاق کے بارے میں ہے، لیکن اس کے اندر ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) موجود ہے۔ اس کو لے کر ایک طالبِ جنت کے لیے اللہ سے دعا کرے ۔ وہ یہ کہے کہ ــــ خدایا، تو نے اپنی کتاب میں یہ اصول بتایا ہے کہ دی ہوئی چیز کو واپس لینا درست نہیں۔ اسی طرح تو نے مجھے دنیا کی زندگی میں بے شمار چیزیں عطا کیں ۔ یہ چیزیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ کسی شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کو دئے ہوئے قنطار (treasure) سے ہزاروں بلین گنا سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔ پھر کیا تو میرے ساتھ ایسا کرے گا کہ تو مجھے اپنی رحمت کا قنطار دے اور موت کے بعد کے دورِ حیات میں تو مجھ سے تمام دی ہوئی چیزیں واپس لے لے اور مجھ کو محروم کر کے چھوڑ دے۔ جس اعلیٰ اخلاقی اصول کی تعلیم تو نے انسان کو دی ہے، میں امید کرتا ہوں کہ تو مزید اضافے کے ساتھ یہی اعلیٰ اخلاقی معاملہ میرے بارے میں کرے گا۔
قرآن کی اس آیت میں طلاق کا ایک حکم بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں طلاق کا مادہ 15 بار آیا ہے، لیکن اس آیت میں استثنائی طورپر طلاق کے بجائے، استبدال (replacement) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظی فرق بے حد با معنی ہے۔ یہ ایک طالبِ جنت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ یہ سوچ سکے کہ استبدال زوج کی طرح میرا معاملہ بھی استبدالِ مقام کا معاملہ ہے، یعنی موت کے بعد موجودہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں جانا۔
اس مشابہت میں طالبِ جنت کے لیے ایک بشارت (good tiding) موجود ہے۔ وہ یہ سوچ سکتا ہے کہ استبدالِ زوج کا معاملہ میرے استبدالِ مقام کے معاملے پر بھی یکساں طور پر چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ یہاں ایک طالبِ جنت یہ امید کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا لفظی فرق اس لیے رکھا، تا کہ ایک طالبِ جنت اس میں اپنی تصویر دیکھے اور گہری امیدوں کے ساتھ وہ اللہ سے جنت کا طالب بن جائے۔