قرآن کتابِ دعوت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲
قرآن کتابِ دعوت
قرآن ایک کتاب دعوت ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں جب قرآن اترا تو اُس وقت قرآن ہی دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے طریقِ تبلیغ کے متعلق روایات میں آتا ہے: عرض علیهم الاسلام، وتلا عليهم القرآن (انھوں نے اُن کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا کچھ حصہ ان کو پڑھ کر سنایا)۔
مگر عجیب بات ہے کہ بعد کے زمانے میں قرآن مسلمانوں کے درمیان کتابِ دعوت کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ مسلمان، قرآن کا عربی متن (text) برکت کے طور پر پڑھتے رہے۔ قرآن کے جو ترجمے کئے گئے، وہ بھی یا تو ثواب کے لیے کیے گئے، یا اس ذہن کے تحت کہ مسلمان اس کو پڑھیں گے۔ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی اشاعت کے لیے غالباً قرآن کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔ انگریزی زبان موجودہ زمانے میں انٹرنیشنل زبان سمجھی جاتی ہے۔ انگریزی زبان میں قرآن کے تقریباً 50 ترجمے موجود ہیں۔ مگر یہ انگریزی ترجمے مدعو فرینڈلی زبان(Mad‘u-friendly language) میں نہیں کئے گئے۔ چنانچہ غیر مسلم جب ان ترجموں کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ عام انسان کے لیے قرآن سمجھ میں آنے والی کتاب نہیں۔ انھیں اسباب کی بنا پر لمبی کوشش کے بعد سی پی ایس (نئی دہلی) نے 2008 میں انگریزی زبان کا ایک نیا ترجمہ شائع کیا ہے۔ یہ ترجمہ ان شاء اللہ مدعو فرینڈلی زبان میں ہے۔ چناں چہ جن غیر مسلم حضرات تک یہ ترجمہ پہنچتا ہے، وہ اس کو شوق سے لیتے ہیں اور دلچسپی کے ساتھ اس کو پڑھتے ہیں۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے قریب ادخالِ کلمہ اسلام کا عمل ہوگا، یعنی ہر گھر میں کلمۂ اسلام پہنچ جائے گا۔ اس حدیث میں کلمۂ اسلام سے مراد خدا کی کتاب قرآن ہے۔ ادخال الکلمة فی کل البیوت سے مراد ادخال القرآن فی کل البیوت ہے، یعنی ہر گھر میں قرآن کا پہنچ جانا۔ اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ادخالِ کلمہ کے اس عمل میں اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ دعوتِ اسلام کا ایک ایسا طریقہ ہے جو بلاشبہ ہر مسلمان کے لیے ممکن ہے، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ۔