محرومی کے بعد بھی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۶
محرومی کے بعد بھی
632ء میں مدینہ میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ وہ صحابہ کے لیے ایک سخت صدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت صحابی رسول ابو بکر صدیق نے ایک نمونہ قائم کیا۔ وہ رسول اللہ کے حجرہ میں آئے ۔ انھوں نے آپ کے چہرے سے چادر اٹھا کر آپ کو دیکھا اور پھر کہا: من كان يعبد محمداً فإن محمداً قد مات۔ ومن كان يعبد الله فان الله حي لا يموت (صحيح البخاری، رقم الحدیث: 3667) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد پر موت آچکی۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ یہ ایک صحابی رسول کی مثال ہے جو اس قسم کے ہر واقعہ کے لیے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو اپنے بیٹے سے بہت قلبی تعلق ہے۔ نو جوانی کی عمر میں بیٹے کی وفات ہو جاتی ہے۔ اس کا دل اس حادثہ سے بے قابو ہو جاتا ہے۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ صحابی رسول کی مثال کو اپنے لیے ایک نمونہ بنائے اور اپنے آپ سے کہے: اگر تم اپنے بیٹے کی پرستش کرتے تھے تو تم کو معلوم ہو کہ تمھارا بیٹا مر گیا۔ اور اگر تم اللہ کی پرستش کرنے والے ہو تو تم کو جاننا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے، اُس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ انسانوں کی دو قسمیں ہیں— خدا میں جینے والے اور غیر خدا میں جینے والے۔ جو شخص خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا کنسرن (concern) بنائے ہوئے ہو، جو خدا کے سوا کسی اور چیز سے قلبی تعلق رکھتا ہو، وہ اُس چیز کے کھونے پر سخت پریشان ہو جائے گا۔ اُس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ اس کی دنیا ختم ہوگئی۔ اُس سے وہ چیز چھن گئی جس کے سہارے پر وہ جی رہا تھا۔ ایسے لوگ خدا کے منکر ہیں، خواہ وہ اقرار خدا کے الفاظ اپنی زبان سے بولتے ہوں۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں خدا کا قرب حاصل ہونے والا نہیں۔ اس کے برعکس، وہ انسان ہے جو خدا وند ذوالجلال میں جیتا ہو، جس نے خدا کو اپنا سب کچھ بنا رکھا ہو، جس کی سوچ اور جس کے جذبات صرف ایک خدا سے وابستہ ہو گئے ہوں۔ ایسا انسان جب کسی چیز کو کھوتا ہے تو وہ خدا کو اور زیادہ یاد کرنے لگتا ہے۔ ہر محرومی اُس کے لیے خدا کے ساتھ مزید تعلق کا سبب بن جاتی ہے۔