Al-Risala · May 2011 · page 15

وضو اور قرآن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵

أفتاک هذا، أُمسيلمةُ الكذاب، یعنی کس نے تم کو یہ مسئلہ بتایا ہے، کیا مسیلمہ کذاب نے۔ اِسی طرح سے علی بن ابی طالب کے بارے میں روایت میں آیا ہے کہ وہ صحیفہ کو لے کر قرآن پڑھتے تھے، حالاں کہ وہ باوضو نہیں ہوتے تھے (موطأ امام مالك، شرح العلامة عبد الحي اللكنوى، كتاب الطهارة، باب الرجل يمس القرآن وهو جنب أو على غير وضو، 2/83)۔

حضرت عمر فاروق کا مذکورہ واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول کے زمانے میں اِس معاملے میں کیا مزاج پایا جاتا تھا۔ اٌس زمانے میں لوگوں کا سارا دھیان تمام تر قرآن کے معانی پر مرتکز ہوتا تھا، نہ کہ اس کے ظاہری مسائل پر۔ یہ مسئلہ کہ وضو کے بغیر قرآن چھونا جائز نہیں، یہ دراصل دور صحابہ کے بعد اُس زمانے میں پیدا ہوا جب کہ لوگ ظواہر کو اہمیت دینے لگے اور معنویت کا پہلو پس پشت چلا گیا۔ بعد کے زمانے میں یہ معاملہ صرف قرآن کے ساتھ پیش نہیں آیا، بلکہ دین کے تمام معاملات میں ایسا ہی ہوا۔ لوگ معنوی پہلوؤں پر زور دینے کے بجائے ظاہری مسائل پر زیادہ زور دینے لگے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو انتقالِ تاکید (shift of emphasis) کہا جاتا ہے۔ وضو کے بغیر قرآن نہ چھونے کا مسئلہ اِسی بعد کے دور کا ایک ظاہر ہ ہے، وہ قرآن اور حدیث کے نصوص سے ماخوذ مسئلہ نہیں۔ کشمیر میں موجود بے شمار دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو لوگ اِس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ حسبِ ذیل پتے پر رابطہ کریں: Hamidullah Hamid Executive Director “KIIPS”

Email: kwc.beerwah@gmail.com, Mob. 9419488008 الرسالہ کے تقریباً تمام شمارے MP3 Format میں، نیز الرسالہ اور الرسالہ مطبوعات درج ذیل پتے سے حاصل کی جاسکتی ہیں:

Positive Thinkers N0. 9/A, 2nd Cross, Model Colony, Yeshwanthapur Banglore-460022, Ph.: 23376184 Mob.: 9342899616

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page