Al-Risala · May 2011 · page 18

تخریبی سیاست

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸

تخریبی سیاست

مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ــــ ظالم حکمران کے خلاف بغاوت، خدا کے لیے وفاداری ہے:

Rebellion to a tyrant, obedience to God.

یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہرگز اسلامی سیاست نہیں ہے۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اس سیاست کا بانیٔ اول شیطان ہے۔ آج جو لوگ اس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلا شبہ شیطان کی پیروی کر رہے ہیں، نہ کہ اسلام کی پیروی۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیق انسانی سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اُس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی ــــ فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔

یہ انسانی تاریخ میں ، اتھارٹی (authority) کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالٹکس آف اپوزیشن (politics of opposition) بلاشبہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکراؤ کر کے پالٹکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔

عجیب بات ہے کہ شیطان کی یہ منفی سیاست پوری تاریخ میں مسلسل طور پر جاری رہی ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page