Rebellion to a tyrant, obedience to God.
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
اہل ایمان کے درمیان بھی اور غیر اہل ایمان کے درمیان بھی۔ اس منفی سیاست کا یہ براہ راست نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ تعمیر کے تاریخ کے بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔
ایسا کیوں ہے کہ ساری تاریخ اس قسّم کی شیطانی سیاست کی تاریخ بن گئی۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ خالق نے انسان کو ایک استثنائی صلاحیت دی ہے، یعنی ایگو (ego)۔ یہ دراصل ایگو ہے جو انسان کو پوری کائنات میں ایک خصوصی درجہ عطا کرتا ہے۔ لیکن انا کے دو پہلو ہیں پلس پوائنٹ، اور مائنس پوائنٹ ۔ اجتماعی زندگی، خواہ وہ خاندانی زندگی ہو، یا خاندان سے باہر کی زندگی، اُس میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ ایسے تجربات پیش آتے ہیں کہ اس کا ایگو (انا) جاگ اٹھتا ہے۔ اس طرح کے موقع پر اگر ایسا ہو کہ انسان اپنے آپ کو کنٹرول کرے، وہ ایگو مینجمنٹ (ego management) کا ثبوت دے، تو گویا کہ اُس نے اپنے ایگو کا صحیح استعمال کیا۔ اور اگر ایسا ہو کہ جب اس کا ایگو بھڑکے تو اس کی پوری شخصیت اُس سے متاثر ہو جائے۔ ایسی حالت میں وہ سرکشی کے راستے پر چل پڑے گا۔ یہ اس کے لیے ایگو مینجمنٹ میں ناکام ہونے کا واقعہ ہوگا۔
ایگو کا یہ واقعہ انسان کے درمیان ہر جگہ پیش آرہا ہے۔ یہی واقعہ جب سیاسی میدان میں پیش آئے تو اسی کا نام پلٹکس آف اپوزیشن ہے، اسی کا نام پولیٹکل اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے۔ چوں کہ بیش تر لوگ ایگو مینجمنٹ کے امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں، اس لیے پوری تاریخ میں وہ منظر دکھائی دیتا ہے جس کو سیاسی تخریب کاری (political destruction) کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے کا حل قرآن اور حدیث میں صبر کی سیاست بتایا گیا ہے۔ صبر کی سیاست کوئی پسپائی کی سیاست نہیں ہے، صبر کی سیاست دراصل پولیٹکل اسٹیٹس کو ازم (political statusquoism) کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے معاملے میں صورت موجودہ کو عملاً قبول کرنا، سیاسی اقتدار سے ٹکرائے بغیر، غیر سیاسی میدان میں موجود مواقع کو استعمال کرنا۔ یہی وہ فارمولا ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله يعطى على الرفق، ما لا يعطى على العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی اللہ عدم ٹکراؤ کے طریق کار پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ ٹکراؤ کے طریق کار پر کسی کو نہیں دیتا۔