Al-Risala · May 2011 · page 20

ذہنی ارتقا کا ذریعہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰

ذہنی ارتقا کا ذریعہ

ابو الدرداء عویمر بن مالک الانصاری ایک معروف صحابی ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور 32 ہجری مطابق 652 عیسوی میں شام میں ان کی وفات ہوئی۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عُویمر حکیم أُمّتی (ابوالدرداء میری امت کے ایک دانش مند شخص ہیں)۔ اسی طرح ابن الجزری نے ان کے بارے میں کہا: كان من العلماء الحكماء (الأعلام للزرکلی 5/98) یعنی ابوالدرداء علم اور حکمت والے لوگوں سے تھے۔

ابو الدرداء انصاری کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: لا تفقه كل الفقه حتى تمقت الناس في جنب الله، ثم ترجع إلى نفسك فتكون أشد لها مقتاً (مصنف ابن ابی شیبة، رقم الحدیث: 35726) یعنی تم پورے معنوں میں دانش مند نہیں ہو سکتے، یہاں تک کہ تمھارا یہ حال نہ ہو جائے کہ تم اللہ کے معاملے میں لوگوں کے خلاف سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرو۔ پھر تم اپنی طرف واپس آؤ تو خود اپنی اوپر اُس سے بھی زیادہ ناپسندیدگی کا اظہار کرو۔ مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کے اندر کوئی برائی دیکھتا ہے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر پاتا، وہ اس کو اس برائی پر ٹوکتا ہے اور نہایت سخت انداز میں وہ اس پر تنقید کرتا ہے۔ یہ دوسروں کا محاسبہ کرنے کا معاملہ ہے۔ اسی کے ساتھ مومن کے اندر خود احتسابی (self-introspection) کا شدید جذبہ ہوتا ہے۔ بعد کو وہ سوچتا ہے کہ اگرچہ میری بات درست تھی، لیکن مجھے یہ حق نہ تھا کہ میں اپنی بات کہنے کے لیے اتنا سخت انداز اختیار کروں۔

یہ خود احتسابی اُس کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے ذہن کے نئے گوشے کھل جاتے ہیں۔ اس کی عقل و دانش میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن کے ایسے دروازے کھل جاتے ہیں جو اب تک کھلے نہ تھے۔ اس شدید خود احتسابی کے بغیر کسی شخص کا ذہنی اور روحانی ارتقا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page