تعارف قرآن
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱
تعارف قرآن
قرآن، خدا کی کتاب ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں خدا کی طرف سے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پر عربی زبان میں اترا۔ قرآن اپنی اصل عربی زبان میں اب تک محفوظ ہے۔ قرآن، پورے معنوں میں، ایک محفوظ خدائی کتاب ہے۔ قرآن کے متن(text) میں نہ کوئی کمی ہوئی ہے اور نہ کوئی اضافہ۔
قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ اِس میں انسان کا خالق براہِ راست انسان سے خطاب کرتا ہے۔ قرآن کا پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ اِس کا خالق براہِ راست طور پر اس سے ہم کلام ہو کر کہہ رہا ہے کہ ــــ اے انسان، یہ تیرا خدا ہے جو تیری قابل فہم زبان میں تجھ کو خطاب کر رہا ہے۔ تو اس کلام کوسن اور اس کی اتباع کر۔ اس اتباع میں تیری نجات ہے۔ اس اتباع کے ذریعے تو اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔
قرآن میں چھوٹی، بڑی 114 سورتیں ہیں۔ اُس کی آیتوں کی تعداد مجموعی طور پر 6236 ہے ۔ قرآن کی ہر سورہ کے شروع میں (به استثناء سورہ التوبہ) یہ جملہ ہوتا ہے : بسم الله الرحمن الرحيم (شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم والا ہے)۔ اس طرح، قرآن کی ہر سورہ اور مجموعی طور پر پورا قرآن یہ بتاتا ہے کہ قرآن ، خدا کی صفت رحمت کا اظہار ہے۔ قرآن کا نزولِ رحمت الہی کا نزول ہے۔ تاہم یہ رحمت بارش کی طرح نہیں ہے کہ اُس کا فائدہ اپنے آپ ہر عورت اور مرد کو مل جائے ۔ قرآن کا فائدہ صرف اُس انسان کو ملے گا جو کامل سنجیدگی کے ساتھ اِس پر غور کرے ، جو طالب بن کر اُس میں اپنے لیے ہدایت تلاش کرے۔
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں اترا۔ اُس وقت کا غذ وجود میں آچکا تھا۔ یہ کاغذ بعض مخصوص درختوں کے ریشے سے لے کر دستی صنعت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ اُس کو پپائرس (Papyrus) کہا جاتا ہے۔ قرآن کا کوئی حصہ جب بھی اُترا تو اُس کو اس کا غذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues