تعارف قرآن
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲
اس غذ کو عربی زبان میں قرطاس 7)کہاجاتا ہے۔ اسی کے ساتھ لوگ قرآن کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتے تھے۔ کیوں کہ اُس وقت قرآن ہی واحد اسلامی لٹریچر رہا۔ قرآن کو نمازوں میں پڑھا جاتا تھا اور دعوہ ورک کے تحت اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اِس طرح قرآن ایک بیک وقت لکھا بھی جاتا تھا اور اسی کے ساتھ اس کو یاد بھی کیا جاتا رہا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے تک قرآن کو محفوظ کرنے کا یہی طریقہ جاری رہا۔ آپ کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی، اس کے بعد ابو بکر صدیق اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ انھوں نے باقاعدہ اہتمام کے تحت، قرآن کا ایک مجلد نسخہ بنایا۔ یہ نسخہ قدیم زمانے کے کاغذ یا قرطاس پر بنایا گیا تھا۔ یہ مجلد قرآن چو کور صورت میں تھا۔ چناں چہ اس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا۔ اِس طرح قرآن، خلیفہ اول کے زمانے میں مجلد کتاب کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانے میں اس مجلد قرآن کے مزید نسخے تیار کیے گیے اور اس کو مختلف شہروں میں بھیج دیا گیا۔ یہ نسخے شہر کی جامع مسجدوں میں موجود رہتے تھے۔ لوگ اُن کو پڑھتے بھی تھے اور اُن سے مزید نسخے تیار کرتے تھے۔
کتابت قرآن کا یہ سلسلہ انیسویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور ساتھ ہی کا کاغذ بھی جدید صنعتی طریقے پر بڑی تعداد میں تیار کیا جانے لگا۔ اس طرح انیسویں صدی میں قرآن کو باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کے ذریعے چھاپنے کا آغاز ہو گیا۔ چھپائی کے طریقوں میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ اسی کے ساتھ قرآن کے مطبوعہ نسخے بھی زیادہ بہتر طور پر تیار ہونے لگے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے اتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں کہ وہ ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر لائبریری میں اور ہر مارکیٹ میں اس طرح وافر مقدار میں موجود ہیں کہ ہر انسان قرآن کے چھپے ہوئے خوب صورت نسخے حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ کُرۂ ارض کے کسی بھی مقام پر ہو۔ آج قرآن کا ایک مطبوعہ نسخہ اُسی نسخہ (ربعہ) کی عین نقل (true copy) ہوتا ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانے میں خلیفہ اول ابو بکر صدیق نے خصوصی اہتمام کے ذریعے تیار کرایا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues