غلو کی ایک مثال
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷
غلو کی ایک مثال
مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے اپنے آخری زمانے میں سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک کتاب لکھنا شروع کیا۔ اس کتاب کی تکمیل ان کے شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953) نے کی۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب سیرت النبی کی پہلی جلد کے آغاز میں ایک سرنامہ لکھا ہے۔ اس سرنامہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’ایک گدائے بے نوا شہنشاہ کونین کے دربار میں اخلاص و عقیدت کی نذر لے کر آیا ہے۔ ‘‘ یہ سرنامہ اُس غلو کی ایک مثال ہے جو بعد کے زمانے کے مسلمانوں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ترین ممانعت (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2143) کے باوجود، اُن کے بارے میں کیا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کے لیے ایسے الفاظ بولنے لگے جو صرف خدا کے لیے مخصوص ہیں— شہنشاہِ کونین، سرورِ کائنات، وغیرہ۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کو وہ درجہ دے دیا جو حقیقتاً رب العالمین کا درجہ ہے۔ مذکورہ سرنامہ کے الفاظ اگر بدلے جائیں اور اس کو خدا کی نسبت سے استعمال کیا جائے تو کہنے والا یہ کہے گا کہ— ایک گدائے بے نوا شہنشاہ کونین کے دربار میں مغفرت کی بھیک مانگنے آیا ہے۔ اس معاملے کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ جب آپ خالقِ کائنات کو بڑا درجہ دیں تو آپ کی فطرت اس کی تصدیق کرتی ہے اور فطرت کی تصدیق کی بنا پر حقیقی معنوں میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا وندِ ذوالجلال آپ کی زندگی میں اپنی حقیقی عظمت کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب اس قسم کے پُر عظمت الفاظ غیر خدا کے لیے بولے جانے لگیں تو وہ صرف الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں، فطرت کی تصدیق حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ کی زندگی میں حقیقی احساس کے طور پر شامل نہیں ہوتے۔ خدا کی عظمت کے لیے بولے جانے والے الفاظ فوراً ہی اپنا حقیقی مصداق پا لیتے ہیں، جب کہ غیر خدا کی عظمت کے لیے بولے جانے والے الفاظ اپنا حقیقی مصداق نہ پانے کی وجہ سے صرف الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں، اس سے زیادہ اُن الفاظ کی اور کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔