Al-Risala · May 2011 · page 28

غلو کی ایک مثال

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸

شاہ ہمدان کا مشن Revival of Shah Hamadan's Mission میر سید شہاب الدین علی ہمدانی (وفات: 1384ء) کو ریاست جموں و کشمیر میں ’’معمار کشمیر‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طور پر اُن کو ’’امیر کبیر‘‘ کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوں نے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔ موجودہ کشمیر زیادہ تر اُنھیں کی دعوتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پر قائم تھے۔ 1947 میں برصغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردِّ عمل کے طور پر کشمیر میں سیاسی تحریک اُٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ثابت ہوا ہے۔ کشمیری مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں ۔ وہ دوبارہ شاہ ہمدان کی طرح پرامن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں ۔ اِس نئے ذہن کو شاہ ہمدان کے مشن کا احیاء (Revival of Shah Hamadan's Mission) کہا جا سکتا ہے۔ میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیموران سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اُن کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائیں، مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے مکمل طور پر پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکلے۔ اِس طرح، افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 1379ء میں کشمیر پہنچا۔

امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردعمل کے طور پر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اُس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اِس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ امیر کبیر نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page