ایک سبق آموز واقعہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴
ایک سبق آموز واقعہ
مولانانورعالم خلیل امینی (استاد ادب عربی، دارالعلوم، دیوبند) نے دیوبند کا ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”24 جولائی 2002 کو دارالعلوم دیوبند کے ایک طالب علم کے ساتھ کسی وجہ سے چند شہریوں نے زدوکوب کا معاملہ کیا۔ دارالعلوم کے طلباکı ایک تعداد نو جوانی کے جوش سے مغلوب ہوگئی اور اُن سے دارالعلوم کے چوراہے کی چند دکانوں کو ذرا بہت نقصان پہنچ گیا۔ متعلقہ شہریوں کو بہت تکلیف ہوئی اور اُنھوں نے حضرت مرحوم (مولانا مرغوب الرحمن قاسمی، مہتمم دارالعلوم، دیوبند) سے بڑھا چڑھا کے اس معاملے کی شکایت کی۔ حضرت نے فرمایا کہ آپ تحریری طور پر دیجئے کہ آپ لوگوں کا واقعہ کتنا اور کیا کیا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے مبالغے کے ساتھ نقصانات کا اندازہ تحریراً پیش کیا تو حضرت نے فرمایا۔ دیکھئے، دار العلوم کو قوم جو چندہ دیتی ہے، وہ دارالعلوم کے ضروری مفادات پر خرچ کرنے کے لیے دیتی ہے۔ یہ حقیر اُس کا امین ہے۔ اس میں کوئی خیانت اس کے لیے جائز نہیں، اس لیے میں دارالعلوم کی رقم سے آپ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرسکتا۔ آپ لوگ مہینے دو مہینے کا موقع دیجئے کہ میں اپنی زمین کا کوئی حصہ مناسب قیمت پر فروخت کرکے آپ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرسکوں۔ حضرت کی بات سن کر شہریوں کا وفد آب دیدہ ہوگیا اوراُس نے حضرت سے معافی کی درخواست کی کہ حضرت، ہم لوگوں سے شدید غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کو پریشان کیا اور آپ کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنے۔ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔ دارالعلوم جیسے آپ کا ہے، ویسے ہی وہ ہمارا بھی ہے“۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 44)۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی پیدائشی طور پر برا نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی شخص مذکورہ قسم کا کام کرتا ہے تو ایسا ہمیشہ وقتی جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ آپ اگر جوابی ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ گفتگو کریں تو عین ممکن ہے کہ فریق ثانی کو اپنے کام پر شرمندگی ہو جائے اور وہ خود ہی اپنا رویہ بدل لے منفی ردعمل معاملے کو بگاڑ دیتا ہے، اور مثبت ردّعمل معاملے کو درست کر دیتا ہے۔