Al-Risala · May 2011 · page 36

اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۶

سوال وجواب سوال میں سی پی ایس کے دعوتی مشن سے وابستہ ہوں ۔ میں غیرمسلموں کو قرآن کا ترجمہ (ہندی، انگریزی) مطالعے کے لیے دیتا ہوں ۔ اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، غیرمسلم کے لیے قرآن کا چھونا ہی جائز نہیں۔ میں اس سلسلے میں علماء کا مسلک جاننا چاہتا ہوں (خرم قریشی، نئی دہلی)۔

جواب

ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (وفات: 62 ہجری) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف (قرآن) کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے، اور وہ ان کے لیے مصحف لکھ دیتا تھا (إنــه كان إذا أراد أن يتخذ مصحفاً أمر نصرانياً فنسخه (المحلی لابن حزم، جلد 1، صفحه (84) اسی طرح بیان میں کہا گیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے لیے حیرہ کے ایک نصرانی نے ایک مصحف 70 درہم میں لکھا تھا (أن عبد الرحمن بن أبى ليلى كتب له نصراني من اهل الحيرة مصحفاً بسبعين درهماً، مصنف عبد الرزاق، باب بيع المصحف، جلد 8، صفحه 144) ۔ پانچویں صدی ہجری کے مشہور عالم ابن حزم الاندلسی (وفات : 656 ہجری) کسی قید اور شرط کے بغیر علی الاطلاق مس قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں۔

جو لوگ مس قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں، ان کے استدلال کی ایک بنیاد یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہنشاہ ہرقُل کے نام جو مکتوب روانہ کیا تھا، اس میں قرآن کی آیت بھی درج تھی ۔ رسول اللہ کا یہ مکتوب صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی میں مکمل طور پر نقل ہوا ہے ۔ ہندوستان کے مشہور عالم مفتی کفایت اللہ صاحب نے غیرمسلم کو ترجمہ قرآن دینا جائز بتایا ہے۔ وہ اپنی کتاب کفایت المفتی میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ مسلمانوں کے حق میں قرآن کا حکم رکھتا ہے، اور اسے غیر مسلموں کو تبلیغ کے لیے دینا جائز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page