اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸
اپنے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ میں جنتی ہوں ۔ ایسا دعویٰ کرنے والا صرف اپنی جنت کو خدا کی نظر میں مشتبہ قرار دے رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کا جنتی یا مہدی ہونا براہ راست خدا کے فیصلے کا معاملہ ہے ، وہ ہرگز انسان کے فیصلے کا معاملہ نہیں ۔ مہدی کے معاملے میں کسی شخص کو صرف توجیہہ و تشریح کا حق حاصل ہے ، اس معاملے میں اُس کو ہرگز دعوے کا حق حاصل نہیں ۔ مہدی کا دعویٰ کرنا صرف اپنے آپ کو غیر مہدی ثابت کرنا ہے ، وہ ہرگز کسی کے مہدی ہونے کا ثبوت نہیں ۔
(2) جو لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں ، وہ بلاشبہ غیر سنجیدہ لوگ ہیں ۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو میری تحریروں میں وہ مجھ کو پہچان چکے ہوتے ۔ اس قسم کی باتیں بتاتی ہیں کہ انھوں نے میری تحریروں سے مجھ کو نہیں پہچانا ۔
میرا اپنا ذاتی احساس اس کے بالکل برعکس ہے ۔ میں اپنے عجز اور بے مائیگی کو سوچتے ہوئے تنہائی میں ، اکثر بے اختیار رونے لگتا ہوں ۔ میں سوچتا ہوں کہ میرے بارے میں اگر آخرت میں یہ کہہ دیا جائے کہ تم نے جو کام کیا ، وہ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ تم نے کچھ نئی دینی باتیں دریافت کیں ، جو کہ متن (text) میں لفظی طور پر موجود نہ تھیں ۔ اسی طرح اگر قیامت میں خدا یہ کہہ دے کہ تمھاری ان باتوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ، کیوں کہ میری عظمت و کبریائی اس کے بغیر ہی قائم ہے ۔ اسی طرح فرشتے اگر کہہ دیں کہ ہم تو ابد سے خدا کی تسبیح و تحمید میں لگے ہوئے ہیں ، جب کہ تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔ اسی طرح پیغمبر اگر یہ کہہ دیں کہ ہم نے پوری تاریخ میں خدائی سچائی کا اعلان کیا ، جب کہ تمھاری کتابیں وجود میں نہیں آئی تھیں ۔ اسی طرح اصحاب رسول اگر یہ کہہ دیں کہ ہم کو اللہ کی توفیق سے ، اصحاب رسول کا درجہ ملا ، جب کہ ہم نے کبھی تمھارا لٹریچر پڑھا نہیں تھا ۔ اسی طرح اگر ملائکۂ جنت یہ کہہ دیں کہ ہماری فہرست میں جن اہل جنت کا ذکر ہے ، اُن میں تمھارے جیسے کسی شخص کا نام درج نہیں ، قیامت میں اگر ایسا ہو تو میرا کیا حال ہوگا ۔
سوال
مولا ناساحب ، میں نے آپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم